مضامین بشیر (جلد 3) — Page 43
مضامین بشیر جلد سوم 43 کے بعد خلافت کا وسطی زمانہ آتا ہے جس میں خدا نبوت کے زمانہ کی طرح خود براہ راست تو آگے نہیں آتا مگر پس پردہ رہ کر لوگوں کے دلوں اور زبانوں پر ایسا تصرف فرماتا ہے کہ جس شخص کوخدا خلیفہ بنانا چاہتا ہے وہ اسی کے حق میں رائے دیتے ہیں اور پھر اس کے بعد ملوکیت کا دور شروع ہو جاتا ہے۔جب خدا گویا پیچھے ہٹ کر جماعت اور قوم کو آزاد کر دیتا ہے کہ اب تم لوگ ابتدائی تربیت اور ابتدائی استحکام حاصل کر چکے ہو۔سو آئندہ ہماری دی ہوئی تعلیم کے مطابق اپنے کاموں کو خود چلا ؤ اور اپنے لئے ترقی کا رستہ کھولو۔پس دراصل یہ تینوں دور اسلامی نظام کا حصہ ہیں اور قومی اصلاح اور قومی ترقی کے لئے ضروری اور لازمی۔اس تشریح میں اس شبہ کا جواب بھی آجاتا ہے۔جو بعض خام خیال لوگوں کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے کہ کیا اسلام کا نظام صرف تھیں سال میں ختم ہو کر رہ گیا ؟ ایسے لوگوں کو یا درکھنا چاہئے کہ اول تو تمہیں سال کا زمانہ بھی مقدس بانی اسلام کی پیشگوئیوں کے مطابق تھا اور اس لئے وہ بھی اسلام کی صداقت کی دلیل تھا اور دوسرے تمہیں سال میں اسلام کا نظام ختم نہیں ہوا بلکہ اسلام کا ایک دور ختم ہو کر دوسرا دور شروع ہو گیا۔اس جگہ سوال ہو سکتا ہے کہ کیا احمدیت میں بھی یہی صورت رونما ہوگی۔سو جب احمدیت کا نظام اسلام کے نظام کی فرع اور اسی کا حصہ ہے تو اس میں کیا شبہ ہے کہ وہ بھی اسی الہی تقدیر کے تابع ہے جو اسلام کے متعلق عرش الوہیت سے جاری ہو چکی ہے۔لیکن چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت جمالی ہے اور جمال چونکہ جلال کے مقابلہ پر زیادہ وقت لے کر اپنے کمال کو پہنچتا ہے اس لئے یہ امید کی جاتی ہے کہ احمدیت میں خلافت کا زمانہ نسبت زیادہ دیر تک چلے گا۔لیکن بہر حال یہ امل تقدیر ظاہر ہوکر رہے گی کہ کسی وقت احمدیت کی خلافت بھی ملوکیت کو جگہ دے کر پیچھے ہٹ جائے گی۔بلکہ یہ خاکسار خدا کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات اور بعض دوسرے مکاشفات کے ذریعہ اس بات کا علم رکھتا ہے کہ احمدیت میں ملوکیت کا دور کب شروع ہو گا۔لیکن ایسی باتوں کا بر ملا اظہار قبل از وقت مناسب نہیں ہوتا اور آئندہ کی تقدیروں پر اخفا کا پردہ رہنا ہی سنت الہی ہے۔وَلَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمَنَا اللَّهُ الْعَلِيْمُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا باللهِ الْعَظِيم - (1) (1) جماعت کا موقف :۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے مضمون کے اس حصہ سے اختلاف کرتے ہوئے حضرت خلیفہ مسیح الثانی الصلح الموعود رضی اللہ عنہ نے ایک نوٹ المفضل 3 اپریل 1952 ء بعنوان ” خلافت عارضی ہے یا مستقل“ شائع فرمایا جو یہاں حاشیہ میں دیا جارہا ہے تا احباب جماعت کو خلافت کے عزل سے متعلق جماعت احمدیہ کے موقف کا علم ہو۔(مرتب) بقیہ حاشیہ صفحہ 44 پر ملاحظہ کریں۔