مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 625 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 625

مضامین بشیر جلد سوم 625 22 حضرت خلیفہ اس کے لئے کن الفاظ میں دعا کی جائے؟ میرے مضمون ” دعاؤں اور صدقات کی حقیقت کو پڑھ کر بعض دوست پوچھتے ہیں کہ حضرت خلیفہ المسیح ایده الله بنصرہ العزیز کی صحت اور شفایابی کے لئے کن الفاظ میں دعا کی جائے۔سوایسے دوستوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارا خدا ہر زبان کو جانتا اور سمجھتا ہے بلکہ بے زبانوں کی زبان تک سے واقف ہے۔اس سے نہ کوئی زبان سے نکلا ہوا لفظ مخفی ہے اور نہ کوئی دل کی گہرائیوں میں چھپی ہوئی خواہش اس سے پوشیدہ ہے۔پس ہر انسان اپنے قلبی جذبات اور لسانی تلفظات کے مطابق جن الفاظ یا جن اشارات سے بھی دعا کرنے میں سہولت اور حضور قلب پائے اسی کے مطابق دعا کرے۔خدا اس کی سنے گا اور اس کے اخلاص اور اپنی سنت کے مطابق اس سے معاملہ کرے گا۔اسی لئے قرآن نے دعا کے تعلق میں تَضَرُّعاً و خُفْيَةً کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔جس سے یہ مراد ہے کہ خدا ایسی دعا کو بھی سنتا ہے جو پھوٹ پھوٹ کر زبان سے نکلتی ہے اور ایسی دعا پر بھی کان دھرتا ہے جو دل کی گہرائیوں کے اندرا بلتی رہتی ہے اور زبان پر نہیں آسکتی۔مگر بہر حال عام حالات میں مسنون دعائیں اور خصوصاً وہ دعائیں جو خود خدا تعالیٰ نے سکھائی ہیں اپنے اندر زیادہ برکت اور قبولیت کا زیادہ درجہ رکھتی ہیں۔میں ان دعاؤں میں سے اس جگہ دوستوں کی تحریک کے لئے صرف وہ دعائیں درج کرتا ہوں۔ان میں سے ایک دعا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمودہ ہے اور دوسری دعا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک الہام میں بیان ہوئی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمودہ دعا یہ ہے جس کا ذکر حدیث شریف میں آتا ہے۔أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِى لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاتُكَ شِفَاءٌ لَّا يُغَادِرُ سَقَمَدٌ یعنی اے انسانوں کے خالق و مالک خدا! تو ( حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی ) بیماری اور تکلیف کو دور فرما کیونکہ تمام شفا تیرے ہاتھ میں ہے اور حقیقتا تیری شفا ہی اصل شفا ہے۔پس تو (حضرت امیر المومنین ایسی شفا عطا کر جس کے بعد بیماری کا کوئی نام ونشان باقی نہ رہے۔دوسری دعا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک الہام میں بیان ہوئی ہے اور اس طرح گویا وہ خود خدا کی سکھائی ہوئی دعا ہے۔یہ دعا ان الفاظ میں ہے: بِسْمِ اللهِ الْكَافِی - بِسْمِ اللهِ الشَّافِی - بِسْمِ اللهِ الْغَفُورُ الرَّحِيم - بِسْمِ اللهِ الْبَرِّ الْكَرِيم - يَا حَفِيظٌ يَا عَزِيزُ يَا رَفِيق - يَا وَلِيُّ اشْفِ عَبْدَكَ امير المومنين)