مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 606 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 606

مضامین بشیر جلد سوم 606 خیال کیا کہ شاید یہ اپنی طرف سے حضرت اماں جان کی خوشی اور ان کا دل بہلانے کے لئے ایسا کہہ رہی ہیں۔چنانچہ میں وقت پر وہاں چلا گیا تو دیکھا کہ بڑے اہتمام سے افطاری کا سامان تیار کر کے رکھا گیا ہے۔اس وقت ممانی صاحبہ نے بتایا کہ میں نے تو اماں جان کی طرف سے ان کے کہنے پر آپ کو کہا تھا۔حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا میں بے حد محنت کی عادت تھی اور ہر چھوٹے سے چھوٹا کام اپنے ہاتھ سے کرنے میں راحت پاتی تھیں۔میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے بارہا کھانا پکاتے ، چہ خا کا تنتے، نوار بنتے بلکہ بھینسوں کے آگے چارہ تک ڈالتے دیکھا ہے۔بعض اوقات خود بھنگنوں کے سر پر کھڑے ہو کر صفائی کرواتی تھیں۔اور ان کے پیچھے لوٹے سے پانی ڈالتی جاتی تھیں۔مریضوں کی عیادت کا یہ عالم تھا کہ جب کبھی کسی احمدی عورت کے متعلق یہ منتیں کہ وہ بیمار ہے تو بلا امتیاز غریب و امیر خود اس کے مکان پر جا کر عیادت فرماتی تھیں۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق تسلی دیا کرتی تھیں کہ گھبراؤ نہیں خدا کے فضل سے اچھی ہو جاؤ گی۔ان اخلاق فاضلہ کا یہ نتیجہ تھا کہ احمدی عورتیں اماں جان پر جان چھڑکتی تھیں اور ان کے ساتھ اپنی حقیقی ماؤں سے بھی بڑھ کر محبت کرتی تھیں۔اور جب کوئی فکر کی بات پیش آتی تھی یا کسی امر میں مشورہ لینا ہوتا تھا تو حضرت اماں جان کے پاس دوڑی آتی تھیں۔اس میں ذرہ بھر بھی شبہ نہیں کہ حضرت اماں جان کا مبارک وجود احمدی مستورات کے لئے ایک بھاری ستون تھا۔بلکہ حق یہ ہے کہ ان کا وجود محبت اور شفقت کا ایک بلند اور مضبوط مینار تھا جس کے سایہ میں احمدی خواتین بے انداز راحت اور برکت اور ہمت پاتی تھیں۔مگر غالباًا حضرت اماں جان کے تقویٰ اور توکل اور دین داری اور اخلاق کی بلندی کا سب سے زیادہ شاندار مظاہرہ ذیل کے دو واقعات میں نظر آتا ہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے بعض اقرباء پر اتمام حجت کی غرض سے خدا سے حکم پا کر محمدی بیگم والی پیشگوئی فرمائی تو اس وقت حضرت مسیح موعود نے ایک دن دیکھا کہ حضرت اماں جان علیحدگی میں نماز پڑھ کر بڑی گریہ وزاری اور سوز وگداز سے یہ دعا فرما رہی ہیں کہ خدا یا تو اس پیشگوئی کو اپنے فضل اور اپنی قدرت نمائی سے پورا فرما۔جب وہ دعا سے فارغ ہوئیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اُن سے دریافت فرمایا کہ تم یہ دعا کر رہی تھی اور تم جانتی ہو کہ اس کے نتیجہ میں تم پر سو کن آتی ہے؟ حضرت اماں جان نے بے ساختہ فرمایا: خواہ کچھ ہو۔مجھے اپنی تکلیف کی پرواہ نہیں۔میری خوشی اسی میں ہے کہ خدا کے منہ کی بات اور آپ کی پیش گوئی پوری ہو۔“ دوست سوچیں اور غور کریں کہ یہ کس شان کا ایمان اور کس بلند اخلاقی کا مظاہرہ اور کس تقویٰ کا مقام