مضامین بشیر (جلد 3) — Page 607
مضامین بشیر جلد سوم 607 ہے کہ اپنی ذاتی راحت اور ذاتی خوشی کو کلیتہ قربان کر کے محض خدا کی رضا کو تلاش کیا جارہا ہے۔پھر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات ہوئی ( اور یہ میری آنکھوں کے سامنے کا واقعہ ہے ) اور آپ کے آخری سانس تھے تو حضرت اماں جان نور اللہ مرقدها و ارفعها اعلیٰ علییین آپ کی چار پائی کے قریب فرش پر آ کر بیٹھ گئیں اور خدا سے مخاطب ہر کر فرمایا کہ: ”خدایا یہ تو اب ہمیں چھوڑ رہے ہیں مگر تو ہمیں کبھی نہیں چھوڑے گا“ اللہ اللہ ! خاوند کی وفات پر اور خاوند بھی ایسا جو گویا ظاہری لحاظ سے ان کی ساری قسمت کا بانی اور ان کی تمام راحت کا مرکز تھا تو کل اور ایمان اور صبر کا یہ مقام دنیا کی بے مثال چیزوں میں سے ایک نہایت درخشاں نمونہ ہے۔یہ اسی قسم کے توکل اور اسی قسم کے ایمان کا نمونہ ہے جیسا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ( فدا نفسی) کی وفات پر فرمایا کہ: أَلَا مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّداً فَإِنَّ مُحَمَّداً قَدْ مَاتَ وَ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَبِيٌّ لَا يَمُوتُ۔( صحیح بخاری کتاب المغازی باب مرض النبی و وقائه ) یعنی اے مسلمانو! سنو کہ جو شخص محمد رسول اللہ کی پرستش کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں۔مگر جو شخص خدا کا پرستار ہے وہ یقین رکھے کہ خدا زندہ ہے اور اس پر کبھی موت نہیں آئے گی۔بس اس سے زیادہ میں اس وقت کچھ نہیں کہتا بلکہ کچھ نہیں کہہ سکتا۔وَاخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ - وَاللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَ عَلَى عَبْدِكَ الْمَسِيحَ الْمَوْعُوْدِ وَ بَارَكُ وَسَلِّمُ - ( محررہ 20 اپریل 1959ء)۔۔۔۔۔۔۔۔روزنامه الفضل ربوہ 24 اپریل 1959ء) ایک غلطی کا ازالہ پنڈت لیکھرام کے قتل کا دن عید الفطر سے متصل تھا مجھے عزیزہ مکرمہ مبارکہ بیگم صاحبہ نے توجہ دلائی ہے کہ میری کتاب تبلیغ ہدایت ایڈیشن ششم و هفتم