مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 598 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 598

مضامین بشیر جلد سوم 598 کام نہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں یہ دونوں طریق اپنے اپنے وقتوں میں رائج رہے ہیں۔اس لئے اگر آپ بسم اللہ جہری پڑھنا چاہیں تو اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ اس کے بعد میں نے اس معاملہ پر مزید جستجو شروع کی تو مجھے محترم حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری نے بتایا کہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کی وفات کے بعد حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھانی شروع کی اور جہری قرآة الحَمدُ لِلَّهِ سے شروع فرمائی تو اس پر بعض سیالکوٹی احباب میں چہ میگوئی ہوئی کہ بسم اللہ کی جہری قرآۃ کیوں ترک کی گئی ہے؟ جب یہ بات حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ تک پہنچی ( یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی زندگی کی بات ہے ) تو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے ایک مجلس میں فرمایا کہ مجھے چونکہ بسم اللہ کے جہری پڑھے جانے کے متعلق کوئی پختہ حدیث نہیں ملی اس لئے میں اَلْحَمْدُ لِلہ سے ہی جہری قراۃ شروع کرتا ہوں۔اور مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے زمانہ میں بھی یہی طریق رائج نظر آتا ہے وغیرہ وغیرہ۔اس کے بعد میں نے محترم حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی سے دریافت کیا کہ ان کو اس بارے میں کیا یا د ہے؟ مولوی صاحب ممدوح نے مجھے ایک نوٹ لکھ کر بھجوایا جس میں لکھا کہ جب میں پہلی دفعہ قادیان گیا تھا تو ایک دفعہ حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا تھا کہ میں جہری قراۃ والی نماز میں بسم اللہ خفی رنگ میں پڑھتا ہوں مگر مولوی عبدالکریم صاحب جہری طور پر پڑھتے ہیں ؟ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ فرما کر خاموش ہو گئے کہ ایسے اختلافات صحابہ کرام میں بھی پائے جاتے تھے“ حضرت مولوی راجیکی صاحب فرماتے ہیں کہ اس کے بعد مولوی عبدالکریم صاحب کی اقتداء میں نمازیں پڑھ کر اپنے وطن واپس گیا اور مجھے ایک دن وہاں امام بننے کا اتفاق ہوا تو میں نے بھی قادیان کی اتباع میں جہری قرآۃ والی نماز میں بسم اللہ کو جہری طور پر پڑھا۔اس پر بعض لوگوں نے تکرار کی کہ یہ کیا بدعت شروع کی گئی ہے؟ میں نے ان معترضین سے پوچھا کہ کیا آپ لوگوں کے نزدیک ائمہ اربعہ یعنی حضرت امام ابو حنیفہ اور امام شافعی اور امام احمد بن حنبل اور امام مالک کا طریق درست تھا یا نہیں ؟ سب نے کہا بے شک درست تھا۔میں نے کہا تو پھر ان اماموں میں بسم اللہ کو اونچی آواز میں پڑھنے والے بھی ہیں اور آہستہ پڑھنے والے بھی تو پھر اعتراض کیسا؟ خیر یہ تو ایک محض روایتی بات تھی کہ جماعت احمدیہ میں بسم اللہ کی جہری یا خفی قرآۃ کے متعلق دونوں