مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 594 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 594

مضامین بشیر جلد سوم 594 وہی حقیقت ہے جسے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان پیارے الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ بسا اوقات رسولِ پاک گھر میں ہمارے پاس بیٹھے ہوئے اس طرح پیار و محبت کی باتیں کرتے تھے کہ گویا آپ کی توجہ کا مرکز ہم ہی ہیں مگر جب اذان کی آواز آتی تھی تو آپ ہمیں چھوڑ کر اس طرح اُٹھ کھڑے ہوتے تھے کہ ” گویا آپ ہمیں جانتے ہی نہیں“۔اس حقیقت کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام بعض اوقات ان الفاظ میں بیان فرمایا کرتے تھے کہ: دست با کار و دل بایار یعنی ہاتھ تو کام میں لگا ہوا ہے مگر دل کی تمام توجہ دوست کی طرف ہے۔اس وقت یہ خاکسار مثال کے طور پر اپنے تین ایسے مرحوم دوستوں کا ذکر کرنا چاہتا ہے جو اس کیفیت کے حامل تھے جو اوپر بیان کی گئی ہے۔میری مراد (1) حضرت مولوی شیر علی صاحب مرحوم اور (2) حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب مرحوم اور (3) حضرت ڈاکٹر سید غلام غوث صاحب مرحوم سے ہے۔یہ تینوں بزرگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ممتاز ( رفقاء) میں سے تھے اور انہیں خدا کے فضل سے وہ مقام نمایاں طور پر حاصل تھا جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ: قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ ( صحیح بخاری کتاب الزکوۃ باب الصدقة بالیمین ) یعنی مبارک ہے وہ انسان جس کا دل گویا ہر وقت مسجد میں لٹکا رہتا ہے۔یہ بزرگ ( اللہ تعالیٰ ان پر ہزاروں رحمتیں نازل فرمائے ) بیوی بچے بھی رکھتے تھے۔ان کے حقوق بھی ادا کرتے تھے۔اپنے مفوضہ کام بھی سرانجام دیتے تھے۔دوستوں کی مجلسوں میں بھی بیٹھتے تھے۔حسب ضرورت بازار سے سودا سلف بھی لاتے تھے۔بعض اوقات معصوم تفریحوں میں بھی حصہ لیتے تھے۔الغرض دست با کار“ کا ایک نہایت عمدہ نمونہ تھے۔مگر باوجود اس کے وہ مساجد کی رونق بھی تھے اور ” دل بایار“ کی ایسی دلکش تصویر پیش کرتے تھے کہ اب تک ان کی یاد سے روح سرور حاصل کرتی ہے اور زبان سے بے اختیار دعا نکلتی ہے۔اور ایسا کیوں نہ ہوتا جبکہ ہم سب کے آقا اور سردار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنا یہ حال تھا کہ آپ کی جوانی میں جب ایک شخص نے ہمارے دادا سے دریافت کیا کہ آپ کا ایک لڑکا تو اکثر نظر آتا ہے مگر کہتے ہیں کہ آپ کا ایک اور لڑکا بھی ہے وہ کہاں رہتا ہے ؟ دادا نے فرمایا ” اس کا کیا پوچھتے ہو؟ مسجد میں دیکھو کسی صف میں لپٹا پڑا ہوگا۔“ میں اس بات کو مانتا ہوں اور اسے پھر دہراتا ہوں کہ اسلامی تعلیم کے ماتحت انسان کی زندگی کا مجاہدانہ 66