مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 588 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 588

مضامین بشیر جلد سوم 588 دیا جائے بلکہ جلا کر خاک کر دیا جائے تو پھر بھی میں محمد کی بارگاہ سے کبھی منہ نہیں پھیروں گا۔مجھے کسی اور محبوب سے کچھ واسطہ نہیں میں تو صرف محمد کے حسن و جمال کا کشتہ ہوں۔تو نے عشق و محبت کی وجہ سے میری جان کو منور کر دیا ہے۔سوائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان! تجھ پر میری جان قربان ہو۔پھر اپنے ایک مشہور عربی قصیدہ میں فرماتے ہیں: أَنْظُرُ إِلَيَّ بِرَحْمَةٍ وَتَحَنَّنٍ يَا سَيّدِى أَنَا أَحْقَرُ الْغِلْمَانَ يَا حُبِّ إِنَّكَ قَدْ دَخَلْتَ مَحَبَّةٌ فِي مُهْجَتِي وَ مَدَارِكِي وَجَنَانِي مِنْ ذِكْر وَجُهِكَ يَا حَدِيقَةً بَهْجَتِي لَمْ أَخْلُ فِي لَحْظٍ وَّلَا فِي آنِ جِسْمِي يَطِيرُ إِلَيْكَ مِنْ شَوق عَلَا يَا لَيْتَ كَانَتْ قُوَّةُ الطَّيران یعنی اے میرے آقا! مجھ پر رحمت اور شفقت کی نظر رکھنا میں آپ کا ایک ادنیٰ غلام ہوں۔اے میرے محبوب آپ کی محبت میرے خونِ دل میں اور میرے حواس میں اور میری روح میں رچ چکی ہے۔اے میری خوشیوں کے باغیچے ! میں تیرے پیارے منہ کی یاد سے ایک لحظہ اور ایک آن بھی خالی نہیں رہتا۔میراجسم تک عشق و شوق کے غلبہ میں تیری طرف اڑنا چاہتا ہے۔اے کاش! مجھے پرواز کی طاقت ہوتی۔یہ اس بے پناہ اور عدیم المثال عشق و محبت کا نمونہ مشتے از خروارے ہے جو حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احد یہ کے قلب صافی میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے موجزن تھی۔بلکہ حق یہ ہے کہ یہ ”مشے از خروارے بھی نہیں بلکہ دانہ از خروارے ہے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقوال اور تحریرات رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق و محبت سے اس طرح معمور ہیں جس طرح ایک عمدہ اسفنج کا ٹکڑا پانی میں ڈبونے کے بعد پانی سے بھر جاتا ہے اور گویا پانی ہی پانی بن گیا ہے۔پس لاریب جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے۔آپ کا وجود باجود خالصہ محبت رسول کی مقدس پیداوار ہے۔اور اس میں ذرہ بھر بھی شک نہیں کہ : آن مسیحا که بر افلاک مقام مش گویند لطف کردی کہ ازیں خاک مرا آں کردی ( درشین فارسی صفحه 379)