مضامین بشیر (جلد 3) — Page 589
مضامین بشیر جلد سوم 589 یعنی وہ مسیح کہ جسے لوگ آسمان پر چڑھ کر بیٹھا ہوا خیال کرتے ہیں اسے میرے عشق رسول نے زمین سے پیدا کر کے دکھا دیا ہے۔پس اے میرے دوستو اور عزیز و اور پیارو! بے شک عمل بہت بڑا درجہ رکھتا ہے مگر محض خشک عمل جو محبت سے خالی ہے اور جس میں عشق خدا اور عشق رسول اور عشق مسیح کی چاشنی مفقود ہے وہ ایک بوسیدہ ٹہنی سے زیادہ نہیں۔جو کسی وقت ٹوٹ کر گر سکتی ہے۔پس اپنے دلوں میں محبت کی چنگاری پیدا کرو۔ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی صحابی نے پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ ! قیامت کب آئے گی ؟ آپ نے جواب دیا تم قیامت کے متعلق پوچھتے ہو کیا تم نے اس کے لئے کوئی تیاری بھی کی ہے؟ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ! نماز، روزہ وغیرہ کی تو چنداں تیاری نہیں مگر میرے دل میں خدا اور اس کے رسول کی سچی محبت ہے۔آپ نے فرمایا: الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ( صحيح البخاری کتاب الادب باب علامہ الحب فی اللہ ) یعنی پھر تسلی رکھو کہ انسان کو اپنی محبوب ہستیوں سے جدا نہیں کیا جائے گا۔یہ حدیث بچپن سے لے کر میرے سامنے قطب ستارے کی طرح رہی ہے جس سے میں اپنے لئے رات کی تاریکیوں اور دن کی پریشانیوں میں رستہ پاتا رہا ہوں۔اور جب میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ شعر پڑھا جو عنوان میں درج ہے یعنی: آن مسیحا که بر افلاک مقامش گویند لطف کردی کہ ازیں خاک مرا آں کر دی تو اس پر میں نے یوں محسوس کیا کہ یہ آواز تو میرے اپنے دل کی ہے۔(در رشین فارسی صفحه 379) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى عَبْدِكَ الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ وَ بَارِكْ وَسَلَّمَ وَابْعَثْنِي تَحْتَ أَقْدَامِهُمَا يَا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ - محرره 16 فروری 1959ء) روزنامه الفضل ربوہ 20 مارچ 1959ء)