مضامین بشیر (جلد 3) — Page 587
مضامین بشیر جلد سوم 587 رکھا ہے۔ہاں وہی سر جو میرے کندھوں پر ایک بوجھ ہے جب سے مجھے رسول پاک کا نو رو جمال دکھایا گیا ہے۔آپ کا عشق میرے دل میں اس طرح جوش مار رہا ہے جس طرح ایک آبشار سے پانی ابلا کرتا ہے۔عشق کی آگ میرے ہر سانس سے بجلی کی طرح نکلتی ہے۔پس اے خام طبیعت کے ساتھیو! میرے پاس سے ایک طرف ہو جاؤ کہ کہیں یہ بجلی تمہیں بھسم نہ کردے کیونکہ تم اس کی برداشت کی طاقت نہیں رکھتے۔اے رسول اللہ میں آپ کے مبارک چہرے کے ساتھ از لی پیوند رکھتا ہوں۔میرے دل میں آپ کا عشق اس زمانہ سے ہے کہ میں ابھی ایک شیر خوار بچہ تھا۔وہ وقت یاد کریں کہ جب آپ نے مجھے کشف میں اپنا مبارک چہرہ دکھایا تھا اور وہ وقت بھی یاد کریں جب آپ میری طرف عالم رویا میں مشتاقانہ رنگ میں بڑھے تھے۔ہاں وہ وقت بھی یاد کریں کہ جب آپ نے مجھ پر لطف و رحمت کی بارش برسائی تھی اور پھر وہ بشارتیں بھی یاد کریں جو آپ نے خدا کی طرف سے مجھے دی تھیں۔ہاں ہاں وہ وقت بھی یاد فرمائیں کہ جب آپ نے عین بیداری میں مجھے اپنا جلوہ دکھایا تھا۔وہ بے نظیر حسن و جمال وہ درخشندہ چہرہ اور وہ دلکش صورت جود دنیا کی تمام بہاروں کے لئے مقام رشک ہے۔ایک اور جگہ اپنی محبت کا یوں ذکر فرماتے ہیں: کرے دارم فدائے خاک احمد دلم ہر وقت قربانِ محمد بگیسوئے رسول رسول اللہ کہ که هستم ثار روئے تابان دریں ره گر کشندم ور بسوزند نتابم رو زایوان محمد بدیگر دلبری کارے ندارم که هستم کشته آن محمد تو جان منور کردی از عشق فدایت جان محمد ( در تمین فارسی صفحه 243-244) یعنی میرا سر رسول پاک کی خاک پر شار ہے اور میرا دل ہر وقت محمد پر قربان ہورہا ہے۔مجھے رسول اللہ کے پیارے گیسوؤں کی قسم ہے کہ میں محمد کے نورانی چہرہ پر نثار ہو چکا ہوں۔اگر آپ کے رستہ میں مجھے قتل کر