مضامین بشیر (جلد 3) — Page 583
مضامین بشیر جلد سوم 583 پس میں حضرت مولوی صاحب کی بیماری کے پیش نظر احباب جماعت سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ رمضان کے مبارک ایام میں حضرت مولوی صاحب کی صحت اور لمبی عمر کے لئے خاص طور پر دعا کریں۔نیک اور پارسا لوگوں کا وجود جماعت کے لئے کئی رنگ میں رحمت کا موجب ہوتا ہے اور حضرت مولوی صاحب تو نیک طبقہ میں بھی خاص مقام رکھتے ہیں۔اس لئے ان کا حق ہے اور جماعت کا فرض ہے کہ انہیں اپنی مخصوص دعاؤں میں یا در کھے۔محرره 15 فروری 1959ء) روزنامه الفضل ربوہ 17 مارچ 1959 ء ) 8 آں مسیحا که بر افلاک مقامش گویند لطف کردی که ازیں خاک نمایاں کردی مسیح موعود عشق رسول کی پیداوار ہے تاریخ اسلام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی) کی بعثت کے بعد سب سے بڑا اور سہ زیادہ اہم اور سب سے زیادہ دُور رس واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کا واقعہ ہے۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تکمیل ہدایت کا زمانہ تھا اور مسیح موعود کا زمانہ جس نے آپ کی شاگردی اور غلامی میں اہر ہونا تھا تمیلِ اشاعت کا زمانہ ہے۔اسی کی طرف یہ قرآنی آیت اشارہ کرتی ہے کہ: هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (الفتح: 29) یعنی خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے تا کہ وہ اس دین کو تمام دوسرے دینوں پر غالب کر دکھائے۔اکثر مفسرین نے اتفاق کیا ہے کہ اس آیت کا پہلا حصہ جو ارسال ہدایت اور دین الحق کے ساتھ تعلق رکھتا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باجود کے ذریعہ بصورتِ احسن پورا ہو گیا۔لیکن اس آیت کا دوسرا حصہ جو تمام دوسرے دینوں کے مقابلہ پر اسلام کے غلبہ سے تعلق رکھتا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب یعنی مسیح موعود کی بعثت کے ذریعہ پورا ہونا مقدر تھا۔جس نے دوسرے مذاہب کے زور کے وقت میں ظاہر ہو کر اسلام کو ان سب پر غالب کرنا تھا۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کی بعثت کو