مضامین بشیر (جلد 3) — Page 578
مضامین بشیر جلد سوم 578 زندگی کی کشمکش میں مبتلا رکھ کر پاک کرنا چاہتا ہے۔لیکن رمضان کے آخری عشرہ میں ایک قسم کی جزوی اور مشروط اور محمد و درہبانیت کی سفارش کی گئی ہے۔اس مخصوص عبادت کا نام اعتکاف ہے۔اور جولوگ اس کے لئے فرصت پائیں اور ان کے حالات اس کی اجازت دیں ان کے لئے یہ ہدایت ہے کہ وہ بیس رمضان کی شام کو کسی ایسی مسجد میں جس میں جمعہ ہوتا ہو شب و روز کی عبادت کے لئے گوشہ نشین ہو جائیں اور اپنے اس اعتکاف کو آخری رمضان تک پورا کریں۔اعتکاف میں سوائے پیشاب پاخانہ کی حوائج ضروریہ کے دن رات کا سارا وقت مسجد میں رہ کر نماز اور تلاوت قرآن اور ذکر الہی اور دعا اور اپنی درس و تدریس میں گزارا جاتا ہے۔اس طرح اعتکاف میں بیٹھنے والا انسان گویا دنیا سے کٹ کر خدا کی یاد کے لئے کلینتہ وقف ہو جاتا ہے۔یہ عبادت یاد الہی کی مخصوص چاشنی پیدا کرنے کے لئے مقرر کی گئی ہے تا کہ اس کے بعد اعتکاف بیٹھنے والا انسان یہ محسوس کرے کہ اسے دنیا میں رہتے ہوئے اور دنیوی تعلقات کو نبھاتے ہوئے کس طرح " دست با کار و دل بایار“ کا نمونہ پیش کرنا چاہئے۔لیلۃ القدر کی مبارک رات: قرآن وحدیث سے ثابت ہے کہ رمضان کے مہینہ میں ایک خاص رات ایسی آتی ہے جس میں خدا کی رحمت اس کے بندوں کے قریب تر ہو جاتی ہے۔اس رات کا نام لیلۃ القدر یعنی ” عزت والی رات رکھا گیا ہے۔جو روحانیت کے زبر دست انتشار اور دعاؤں کی خاص قبولیت کی رات ہے۔اسلام نے کمال حکمت سے اس رات کی تعیین نہیں کی۔لیکن حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے روحانی مشاہدہ کے ماتحت اس قدر اشارہ فرمایا ہے کہ اسے رمضان کے آخری عشرہ یا آخری سات دنوں کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔لیلۃ القدر کے لئے رمضان کے آخری عشرہ کو اس لئے مخصوص کیا گیا ہے کہ رمضان کے ابتدائی ہیں دنوں کے مسلسل روزوں اور نفلی نمازوں اور تلاوت قرآن اور دعاؤں اور صدقہ و خیرات وغیرہ کی وجہ سے مومنوں کے دلوں میں ایک خاص روحانی کیفیت اور خاص نورانی جذ بہ پیدا ہوکر ان کے اندر قبولیت دعا کی غیر معمولی صلاحیت پیدا کر دیتا ہے۔بایں ہمہ یہ خیال کرنا کہ لیلتہ القدر میں ہر شخص کی ہر دعا لازماً قبول ہو جاتی ہے اسلامی تعلیم کے صریح خلاف ہے۔جو د عا خدا کی کسی صفت کے خلاف ہو یا خدا کی کسی سنت کے خلاف ہو یا خدا کے کسی وعدہ کے خلاف ہو یا دعا کرنے والے کے اپنے حقیقی مفاد کے خلاف ہو جسے وہ اپنی جہالت کی وجہ سے مانگ رہا ہو وہ ہر گز قبول نہیں ہوسکتی۔اور نہ ایسے شخص کی دعا قبول ہو سکتی ہے جس کا دل نا پا کیوں کا گھر