مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 575 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 575

مضامین بشیر جلد سوم 575 یعنی جس شخص کو موتیوں کی تلاش ہوا سے سمندروں میں غوطے لگانے پڑتے ہیں اور جو شخص بلندیوں کا طالب ہوا سے راتوں کو جاگنے کے بغیر چارہ نہیں۔رمضان سے تعلق رکھنے والےاحکام: اب میں ان احکام کی کسی قدر تشریح کرتا ہوں جو رمضان کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔سب سے اول نمبر پر خود صوم یعنی روزہ ہے جو رمضان کی اصل اور مخصوص عبادت ہے۔روزہ کی ظاہری صورت یہ ہے کہ سحری کے وقت یعنی صبح صادق اور فجر کی اذان سے پہلے اپنی عادت اور اشتہاء کے مطابق کچھ کھانا کھایا جائے۔کھانے کے بغیر روزہ رکھنا چنداں پسندیدہ نہیں سوائے اس کے کوئی مجبوری کی صورت ہو۔اور سحری کھانے کے متعلق مسنون طریق یہ ہے کہ صبح صادق سے قبل جتنی دیر سے کھائی جائے اتنا ہی بہتر ہے۔تا کہ سحری اور اذان کے درمیان کم سے کم وقفہ ہو اور خدائی حد بندی کے ساتھ انسان کی ذاتی خواہش مخلوط نہ ہونے پائے۔اس کے بعد غروب آفتاب تک کھانے پینے اور بیوی کے ساتھ مخصوص جنسی تعلقات قائم کرنے منع ہیں۔اس طرح گویا خدا کے رستہ میں اپنے نفس اور اپنی نسل کی قربانی پیش کی جاتی ہے۔غروب آفتاب کے وقت افطاری کرنے میں بھی وہی اصول چلتا ہے جو سحری کھانے کے متعلق اوپر بیان کیا گیا ہے۔یعنی غروب آفتاب کے ساتھ بلا توقف افطاری کر لی جائے۔دوسرے الفاظ میں سحری کھانے میں دیر کرنا اور افطاری کرنے میں جلدی کرنا مسنون ہے۔روزہ کے دوران میں خاص طور پر اپنے خیالات کو پاک وصاف رکھنا اور بے ہودہ اور لغو باتوں اور فحشاء وغیرہ سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔روزہ ہر عاقل بالغ مرد و عورت پر فرض ہے۔البتہ اگر کوئی شخص سفر میں ہو یا بیمار ہو تو اسے سفر اور بیماری کے ایام میں روزہ ترک کر کے دوسرے ایام میں گنتی پوری کرنی چاہئے۔یہی حکم ان عورتوں کے لئے ہے جو رمضان کے مہینہ میں ماہواری ایام کی وجہ سے چند دن کے لئے معذور ہو جائیں۔وہ لوگ جو بڑھاپے یا دائم المرض ہونے کی وجہ سے معذور ہو چکے ہوں ان کے لئے قرآن یہ حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے کھانے کی حیثیت کے مطابق فدیہ ادا کر دیں۔فدیہ کی رقم مساکین کی امداد کے لئے مرکز میں بھی بھجوائی جاسکتی ہے اور اپنے پڑوس کے غرباء میں خود بھی تقسیم کی جاسکتی ہے۔اور فدیہ نقد رقم کی بجائے کھانے کی صورت میں بھی دیا جا سکتا ہے۔بعض صوفیاء نے سفر اور عارضی بیماری میں بھی فدیہ کی ادائیگی کو پسند کیا ہے اور دوسرے وقت میں گنتی پوری کرنا مزید برآں ہے۔