مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 570 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 570

مضامین بشیر جلد سوم 570 ثانی کے لئے ایک مثیل مسیح نازل ہوگا اور اس کے ذریعہ خدا اسلام کو پھر دوبارہ غالب کرے گا اور یہ غلبہ دائی ہوگا۔وہاں آپ نے اس پیشگوئی کے اندر شامل کر کے اور گویا اسی کا حصہ بنا کر یہ الفاظ بھی فرمائے ہیں کہ : يَتَزَوَّجُ وَ يُوْلَدُ لَهُ ( مشکوۃ باب نزول عیسی صفحہ 480) یعنی مسیح موعود شادی کرے گا اور اس کے اولاد پیدا ہوگی۔پس آپ کا مسیح موعود کے نزول والی پیشگوئی کے اندر شامل کر کے اور اس کا حصہ بنا کر ان الفاظ کا فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک مصلح موعود والی پیشگوئی مسیح موعود والی پیشگوئی کی فرع ہے نہ کہ ایک جدا گانہ منفرد پیشگوئی۔اور اس سے مراد یہ تھی کہ جب مسیح موعود آئے گا تو اس کے ہاتھ سے اسلام کے دوسرے احیاء کا بیج بویا جائے گا۔اور جیسا کہ قرآن مجید میں مذکور ہے یہ پیج اس کے زمانہ میں ایک خوبصورت کونپل کی شکل میں پھوٹے گا اور اپنی نرم نرم جمالی پتیاں نکالے گا۔جو مسیح موعود کے ساتھ کام کرنے والے زراع یعنی کسانوں کے دلوں کو لبھائیں گی۔مگر دشمن اس کے اٹھتے ہوئے جو بن کو دیکھ دیکھ کر دانت پیسیں گے مگر اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکیں گے اور پھر مسیح موعود کے بعد (یعنی دور او چوں شود بکام تمام ) اس کو نپل کو ایک تناور درخت کی صورت میں ترقی دینے اور پروان چڑھانے کے لئے مصلح موعود ظاہر ہوکر جلال الہی کے ظہور کا موجب بنے گا۔اور اس کے وقت میں اس درخت کی شاخیں تمام دنیا میں پھیل جائیں گی اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔مگر مصلح موعود کی یہ جلالی شان مسیح موعود کی جمالی شان کی فرع ہوگی نہ کہ خدائی جلال کا کوئی مستقل اور جدا گانہ جلوہ۔کیونکہ اسلام کا یہ دور اپنی اصل کے لحاظ سے صفتِ احمدیت کا دور ہے جو ایک جمالی صفت ہے۔پس ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ مصلح موعود والی پیشگوئی پر غور کرتے ہوئے اس کی اصل حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اس بات کو کبھی نہ بھولیں کہ مصلح موعود کا ظہور مسیح موعود کی بعثت کا تمہ ہے اور اس کے کام کی تکمیل کے لئے مقدر ہے۔اس کے زمانہ میں اس کو نیپل نے ایک درخت بنتا ہے جس کا بیج حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک ہاتھوں سے بویا گیا۔اور پھر اس درخت نے دنیا میں پھیلنا اور پھولنا اور پھلنا ہے۔اندریں حالات ہمارا فرض ہے کہ ہم اس درخت کی آبپاشی اور ترقی میں انتہائی کوشش اور انتہائی قربانی سے کام لیں۔تاکہ اسلام کے عالمگیر غلبہ کا دن قریب سے قریب تر آ جائے۔اور ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام چا را کناف عالم میں گونجے اور ہمارے سردار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ مسلمانوں کا قدم پھر ایک اونچے مینار پر قائم ہو جائے جیسا کہ حضرت مسیح موعود کے ساتھ خدا کا وعدہ ہے کہ: