مضامین بشیر (جلد 3) — Page 569
مضامین بشیر جلد سوم 569 کرے۔ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے میدان میں جماعت کے لئے ایک بہت عمدہ نمونہ ہے۔آنحضرت فرمایا کرتے تھے کہ میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں ان میں سے جس کے پیچھے بھی چلو وہ ہدایت کا مینار ثابت ہو گا۔یہی حال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدیم اور اور خاص صحابہ کا ہے۔جماعت کا فرض ہے کہ ان کی زندگیوں کا مطالعہ کر کے انہیں اپنے لئے مشعل راہ بنائے۔ان میں سے ہر ایک اپنے رنگ میں ایک ستارہ ہے اور ہر ایک ایک خاص قسم کے نور کا حامل ہے اور ہر ایک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پاک صحبت کے طفیل ایک مقناطیس ہے بشرطیکہ جماعت کے نوجوان اپنے اندر مجذوبیت کی صفت پیدا کریں۔پھر انشاء اللہ وہی ہوگا جو آنحضرت نے فرمایا ہے کہ: بِأَتِهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ - (مشكوة كتاب المناقب مناقب صحابہ صفحہ 554) وَمَا تَوْفِيْقُنَا إِلَّا بِاللَّهِ الْعَظِيمِ (محرره 6 فروری 1959ء) روزنامه الفضل ربوه 17 فروری 1959ء) 4 مصلح موعود والی پیشگوئی مسیح موعود والی پیشگوئی کی فرع ہے ( حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے یہ پیغام اس اجلاس کے لئے ارسال فرمایا جو 20 فروری 1959ء کو مجلس علمی جامعہ احمدیہ کے زیر اہتمام تعلیم الاسلام ہائی سکول کی مسجد میں مصلح موعود کی پیشگوئی کے سلسلہ میں منعقد ہوا تھا۔یہ پیغام محمد شفیق صاحب قیصر سیکرٹری مجلس علمی نے پڑھ کرسنایا ) آج ربوہ میں بلکہ جہاں جہاں بھی جماعت احمدیہ قائم ہے یوم مصلح موعود منایا جارہا ہے اور مجھ سے خواہش کی گئی ہے کہ میں بھی اس موقع پر ربوہ کے جلسہ کے لئے کوئی مختصر سا پیغام دوں۔سو میرا پیغام یہی ہے کہ ہمارے دوست مصلح موعود والی پیشگوئی کی اصل حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔یہ حقیقت جیسا کہ اکثر لوگوں کو غلطی لگتی ہے یہ نہیں ہے کہ یہ پیشگوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں میں سے ایک اہم پیشگوئی ہے اور بس۔بلکہ مصلح موعود والی پیشگوئی کی اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ پیشگوئی اس عظیم الشان پیشگوئی کی فرع ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کے نزول کے متعلق فرمائی ہے۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں یہ پیشگوئی فرمائی ہے کہ آخری زمانہ میں اسلام کی تجدید اور مسلمانوں کے احیاء