مضامین بشیر (جلد 3) — Page 568
مضامین بشیر جلد سوم 568 ہے۔اخبار ”بدر“ کی ایڈیٹری کے زمانہ میں بھی حضرت مفتی صاحب نے نمایاں خدمات سرانجام دیں۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ڈائریوں اور خطبات کو محفوظ کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں سے خاص حصہ پایا۔3۔حضرت میر محمد اسحاق صاحب گو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں بچہ تھے مگر بعد میں ان کو اللہ تعالیٰ نے اسلام اور احمدیت کی خاص خدمت کا موقع عطا کیا۔حدیث کے علم سے ان کو بہت عشق تھا اور ان کے حدیث کے درس میں ایسا رنگ نظر آتا تھا کہ گویا ایک عاشق اپنے معشوق کی باتیں کر رہا ہے۔مذہبی مناظرات میں بھی انہیں کمال حاصل تھا اور وہ اپنے دلائل کو اس طرح سجا کر بیان کرتے تھے کہ فریق مخالف بالکل بے بس ہو کر دم بخودرہ جاتا تھا۔حضرت میر صاحب مرحوم نے جو خدمات لنگر خانہ کے افسر کے طور پر اور پھر مدرسہ احمدیہ کے ہیڈ ماسٹر کے طور پر سرانجام دیں وہ ہمیشہ یادگار رہیں گی۔بچوں کی تعلیم اور خصوصاً یتیموں کی تربیت ان کے ایمان کا جزو تھی۔بے شمار یتیم اور غریب بچے ان کے طفیل علم و عمل کے نور سے آراستہ ہو کر دین کے بہادر سپاہی بن گئے۔مہمان نوازی بھی حضرت میر صاحب کا طرہ امتیاز تھی اور ان کے لئے ہر مہمان ایک مجسم خوشخبری تھا جس کی خدمت میں وہ روحانی لذت پاتے تھے۔پھر حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی بھی بہت ممتاز صحابہ میں سے تھے۔وہ السَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ (التوبہ: (100) میں سے تھے اور گویا سلسلہ کی تاریخ کے کسٹوڈین تھے۔انہوں نے بڑی محنت سے سلسلہ کی تاریخ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سوانح کا مواد جمع کیا۔اور اس میدان میں بہت اچھا لٹریچر اپنی یادگار چھوڑا ہے گوافسوس ہے کہ وہ اسے مکمل نہیں کر سکے۔اخبار الحلم بھی ان کا ایک خاص کارنامہ ہے جسے جماعت احمدیہ کا پہلا اخبار ہونے کا شرف حاصل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اخبار الحکم اور بدر کو اپنے دو باز وفرمایا کرتے تھے۔اس میں شبہ نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ان دو اخباروں نے بہت نمایاں بلکہ خاص الخاص خدمت کی توفیق پائی۔حضرت عرفانی صاحب نے خدا کے فضل سے بہت لمبی عمر پائی مگر باوجود اس کے ان کا قلم آخر عمر تک اسلام اور احمدیت کی خدمت میں مصروف رہا۔اس طرح ان کی وفات گویا جہاد کے میدان میں ہوئی۔وہ ان چاروں ممتاز اصحاب میں سے سب سے آخر میں فوت ہوئے۔احمدیت کے قبول کرنے میں غالباً وہ حضرت مفتی صاحب سے بھی زمانہ کے لحاظ سے پہلے تھے اور صداقت کی تائید میں وہ ایک برہنہ تلوار تھے۔اللہ تعالیٰ ان سب بزرگوں کی روحوں پر اپنی رحمت کی بارش برسائے اور جنت میں ان کا مقام بلند