مضامین بشیر (جلد 3) — Page 567
مضامین بشیر جلد سوم 567 سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چار ممتاز صحابہ مورخہ 8 فروری کو مجلس خدام الاحمدیہ حلقہ گول بازار ربوہ کے زیر اہتمام سیرۃ ( رفقاء) کے موضوع پر جو جلسہ منعقد ہوا اس میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا مندرجہ ذیل پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔) مجھے معلوم ہوا ہے کہ خدام الاحمدیہ گول بازار ربوہ 8 فروری 1959ء کو ایک جلسہ منعقد کر رہے ہیں جس کی غرض و غایت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چار ( رفقاء) کے اوصاف حمیدہ بیان کرنا ہے۔یہ چار صحابہ یہ ہیں۔(1) حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب (2) حضرت مفتی محمد صادق صاحب (3) حضرت میر محمد اسحاق صاحب اور (4) حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی۔اس میں کیا شبہ ہے کہ یہ چاروں صحابہ جماعت احمدیہ کے بہت ممتاز رکن تھے اور انہوں نے سلسلہ احمدیہ کی خدمت کا بہت اچھا موقع پایا۔1۔حضرت مولوی عبد اللطیف صاحب شہید تو گویا مجسم خدمت تھے کیونکہ انہوں نے اپنے خون سے احمدیت کے پودے کو سینچا اور سر زمین کاہل میں ایک نہایت مبارک بیج کا کام دیا جو دن بدن پھولتا اور پھلتا چلا جاتا ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کی بہت تعریف فرمائی ہے۔بلکہ ان کے بالوں کو یادگار اور تبرک کے طور پر سالہا سال تک اپنی بیت الدعا میں لٹکائے رکھا اور اب یہ بال میرے پاس محفوظ ہیں۔انہوں نے صداقت کی خاطر سنگساری جیسی ہیبت ناک سزا کو اس طرح ہنستے ہوئے برداشت کیا کہ گویا ایک شخص پھولوں کی سیج پر لیٹا ہوا ہے۔لاریب ان کا نمونہ قربانی کے میدان میں جماعت کے نو جوانوں کے لئے ایک نہایت مبارک نمونہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کے متعلق لکھا ہے کہ وہ پیچھے آیا اور بہتوں سے آگے نکل گیا۔2۔پھر حضرت مفتی محمد صادق صاحب بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاص الخاص ( رفقاء) میں سے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کے ساتھ بچوں کی طرح محبت کیا کرتے تھے اور ان کا ذکر اکثر ”ہمارے مفتی صاحب کے پیارے الفاظ سے کیا کرتے تھے۔اور حضرت مفتی صاحب بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت کے اتنے دلدادہ تھے کہ گویا ایک پروانہ شمع کے ارد گرد گھوم رہا ہے۔ان کی روح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت میں گداز تھی۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو مسیحی مذہب کا خاص مطالعہ تھا اور مسیحی پادری ان سے اس طرح بھاگتے تھے کہ گویا ان کے سامنے آنے سے ان کی روح فنا ہوتی -