مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 564 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 564

مضامین بشیر جلد سوم 564 یعنی ہم اپنے ماموروں اور ان کے ماننے والوں کو ضرور ضرور اسی دنیا میں اپنی مدد سے نوازتے ہیں اور آخرت میں بھی جب کہ صداقت کی تمام گواہیاں نمایاں ہو کر سامنے آجائیں گی ان کو اپنی غیر معمولی نصرت کا نشان عطا کریں گے۔اگر در خانه کس است حرفی بس است وَاخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ ( محررہ 25 جنوری 1959ء) روزنامه الفضل ربوہ 29 جنوری 1959ء) 2 خادم صاحب مرحوم احباب ان کے نمونہ سے سبق سیکھیں ہر ترقی یافتہ انسان کی زندگی کا ایک خاص پہلو ہوا کرتا ہے۔جس میں وہ اکثر دوسرے لوگوں سے امتیاز پیدا کر کے ان کے لئے گویا ایک نمونہ بن جاتا ہے اور فرض شناس لوگ اس کی مثال سے فائدہ اٹھا کر اپنی زندگیوں میں ترقی کا راستہ کھولتے ہیں۔یہی صورت ملک عبد الرحمن صاحب خادم مرحوم کی زندگی میں نظر آتی ہے جنہوں نے آج سے ایک سال قبل گویا بالکل جوانی کے عالم میں وفات پائی۔خادم صاحب مرحوم گجرات صوبہ پنجاب کے رہنے والے تھے اور کسی ایسے خاندان سے تعلق نہیں رکھتے تھے جس میں علمی تجر اور تبلیغی ذوق و شوق کی کوئی خاص روایات پائی جاتی ہوں۔بلکہ خود ملک صاحب مرحوم نے بھی کسی دینی درس گاہ میں تعلیم نہیں پائی اور نہ کسی عالم دین کی با قاعدہ شاگردی اختیار کر کے دین کا علم سیکھا۔ان کی درسی اور عرفی تحصیل علم صرف اس قدر تھی کہ انگریزی کالجوں کی فضا میں بی۔اے پاس کر کے وکالت کا امتحان دیا اور پھر بظاہر ساری عمر عدالتوں میں گشت لگا کر اپنی روزی کماتے رہے۔مگر باوجود اس کے خادم صاحب مرحوم نے محض اپنے ذاتی شوق اور ذاتی مطالعہ کے نتیجہ میں وہ کمال پیدا کیا کہ جہاں تک مذہبی مباحثہ اور اس میدان کے علمی حوالہ جات کا تعلق ہے وہ جماعت احمدیہ کے کسی موجودہ عالم سے کم نہیں تھے۔بلکہ مناظرات میں جوابوں کی فراوانی اور برجستگی میں انہیں گویا ایک جیتی جاگتی انسائیکلو پیڈیا کہنا چاہئے۔ہر اعتراض کا جواب ان کی زبان پر تیار کھڑا ہوتا تھا۔ہر ضروری حوالہ ان کے