مضامین بشیر (جلد 3) — Page 36
مضامین بشیر جلد سوم 36 نکالی اور ہزار ہا خارجیوں کو قتل کر کے رکھ دیا۔حضرت عثمان سے بھی باغیوں کا یہی مطالبہ تھا کہ آپ خلافت چھوڑ دیں لیکن انہوں نے اپنی جان قربانی کے لئے پیش کر دی اور عزل کا عقیدہ رکھنے والوں کا منہ کالا کر دیا۔پھر ہمارے زمانہ میں آکر حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے عہد میں بھی یہ سوال اٹھا اور آپ نے فرمایا تم کون ہوتے ہو مجھے معزول کرنے والے“ (الفضل 31 اکتوبر 1951ء) کیا ان واضح اور بین حوالہ جات کے ہوتے ہوئے جو قرآن اور حدیث کی نصوص صریحہ اور خلفائے راشدین کے اقوال و حالات سے لے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کے ارشادات تک مسلسل پھیلے ہوئے ہیں اور بلا استثناء ایک ہی ٹھوس حقیقت اور ایک ہی روشن تعلیم کے حامل ہیں۔کوئی دانا شخص اس بات میں ایک سیکنڈ کے لئے بھی شبہ کر سکتا ہے کہ خلافت ایک روحانی نظام ہے جو صرف خدا کے حکم سے قائم ہوتا ہے اور خلیفہ ایک دینی امام ہے جوصرف خدا کے بنانے سے بنتا ہے؟ تو جب خلافت کا قیام خدا کے خاص حکم سے ہوتا ہے تو پھر اس کے عزل کا اختیار لوگوں کے ہاتھ میں کیسے سمجھا جاسکتا ہے۔بنائے تو ایک چیز کو خدا اور بنائے بھی اپنی خاص سکیم اور خاص تقدیر اور خاص تصرف کے ساتھ مگر اس کے توڑنے کا اختیار لوگوں کو حاصل ہو۔یہ اندھیر خدائی قانون اور خدائی حکومت میں کبھی تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔اور اگر کسی شخص کو یہ شبہ گزرے کہ نبی بھی تو خدا بنا تا ہے اور اپنی وحی جلی کے ذریعہ براہ راست حکم دے کر بناتا ہے۔لیکن پھر بھی لوگ نبیوں کو دکھ دیتے ہیں بلکہ جیسا کہ قرآن شریف فرماتا ہے انہیں قتل تک کر دیتے ہیں اور انجیل سے حضرت یحییٰ علیہ السلام کا قتل ثابت ہے اور حضرت عمر اور حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم بھی سچے خلیفہ ہونے کے باوجود شہید ہوئے تھے تو یہ شبہ سخت نادانی کا شبہ ہوگا۔کیونکہ یہاں باغی بن کر کسی چیز کو مٹانے کا سوال نہیں بلکہ خدائی قانون کے ماتحت جائز صورت میں مٹانے کا سوال ہے۔پس جو شخص یا جو گروہ کسی بچے خلیفہ کے عزل کی کوشش کرے گا وہ بھی خدائی قانون کا باغی سمجھا جائے گا اور خواہ وہ اپنی مفسدانہ کوشش میں کامیاب ہو یا نہ ہو وہ بہر حال ایک مجرم کی سزا پائے گا۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ سلم نے حضرت عثمان کے خلاف سراٹھانے والوں اور ان کے عزل کی کوشش کرنے والوں کو منافق قرار دیا ہے۔کیونکہ گو وہ ظاہر میں اسلام کا دم بھرتے تھے مگر خدا کی نظر میں وہ منافق اور نظام اسلام کے دشمن تھے اور اسی بنا پر قرآن شریف نے بھی خلفاء کے منکروں کو فاسق قرار دیا ہے۔گویا بالفاظ دیگر خدا نے یہ فرمایا ہے کہ تم ہمارے نبی کو تو ماننے کا دعوی کرتے ہو لیکن نبی کے کام کو چلانے اور جاری رکھنے کے لئے جو نظام ہم نے قائم کیا ہے اس کا انکار کر کے ہماری ہوئی ہوئی فصل کو تباہ کرنا چاہتے ہو؟