مضامین بشیر (جلد 3) — Page 547
مضامین بشیر جلد سوم 547 كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةٌ كَثِيرَةٌ بإذن اللهِ ( البقرہ: 250) پس اپنے ایمانوں کو مضبوط کرو۔اور اپنے دلوں کو روح القدس کے نزول کا نشیمن بناؤ تا تم آسمان پر ایسی قوم شمار کئے جاؤ جو تھوڑے ہونے کے باوجود سب پر بھاری ہو۔کسی قوم اور کسی انسان کو اپنا دشمن نہ سمجھو۔البتہ ناپاک خیالات اور باطل نظریات کے مقابلہ کے لئے ہر وقت چوکس اور تیار رہو۔اگر کوئی احمدی نوجوان کہلانے کے باوجود اسلام اور احمدیت کی تعلیم پر عمل نہیں کرتا اور اپنے خلاف شریعت اور خلاف نمونہ سے اسلام اور احمدیت کو بدنام کرتا ہے تو وہ ایک بیمار عضو ہے۔اس کا علاج کرو۔اور اگر وہ علاج کے لئے تیار نہ ہو تو اسے جتا دو کہ اس صورت میں وہ تمہارا بھائی کہلانے کا حق دار نہیں رہا۔مگر کسی صورت میں قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لو۔کیونکہ دنیا میں بے شمار فتنے اس جارحانہ ذہنیت کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو اور آپ کو اس رستہ پر چلنے کی توفیق عطا کرے جو اس کی ابدی رضا اور دین و دنیا میں کامیابی کا رستہ ہے۔آمِينَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ ( محرره 22 ستمبر 1958ء)۔۔۔۔۔۔۔روزنامه الفضل ربوہ 18اکتوبر 1958ء) 25 لاہور میں حضرت مسیح موعود کا جنازہ ایک غلط روایت کی تصحیح میری تصنیف ”سلسلہ احمدیہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بیان کے ضمن میں یہ بات درج ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نماز جنازہ لاہور میں خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم کے مکان کے صحن میں پڑھی گئی تھی اور یہ کہ جب جنازہ لاہور سے بٹالہ پہنچا تو اسی وقت قادیان کی طرف روانہ ہو گیا تھا۔جسے احباب جماعت نے اپنے کندھوں پر اٹھا کر راتوں رات قادیان پہنچادیا۔مجھے محترمی ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب اور محترمی حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی نے (جو اس وقت لا ہور اور بٹالہ میں ساتھ تھے ) بتایا ہے کہ یہ روایت درست نہیں ہے۔اور اصل واقعہ یوں ہے کہ لاہور میں جنازہ کی نماز خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان میں نہیں ہوئی تھی بلکہ ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب مرحوم کے مکان کے نچلے صحن میں ہوئی تھی۔اس کے بعد جنازہ شام کے وقت ریل گاڑی کے ذریعہ بٹالہ کی