مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 544 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 544

مضامین بشیر جلد سوم عام لوگوں کو اس کا علم ہو۔544 حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز مرہ کے معمولی سے واقعہ کے تعلق میں فرماتے ہیں کہ رُبَّ أَشْعَتَ أَغْبَرَ لَو أَقسَمَ بِاللَّهِ لَا بَرَّهُ ( صحیح مسلم کتاب البر ) یعنی کئی پراگندہ حال اور غبار آلو دلوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اگر وہ اللہ کے فضل ورحمت پر بھروسہ کر کے کسی امر میں قسم کھا جائیں کہ خدا کی قسم ایسا ہوگا یا خدا کی قسم ایسا نہیں ہوگا تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کی لاج رکھ کر اسے پورا کر دیتا ہے۔تو جب عام مومنوں کا ( جو خدا کے تعلق پر بھروسہ کر کے کوئی بات کہہ جاتے ہیں ) یہ حال ہے تو اس بزرگ ہستی کا کیا کہنا ہے جس کے مقام اخروی کے متعلق ہمارے آقا سرور کائنات فخر موجودات حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ : ” يُدْفَنُ مَعِى فِي قَبُرِى“ (مشکوۃ کتاب الفتن باب نزول عیسی علیہ السلام) یعنی میری امت کے مسیح کو یہ روحانی مقام حاصل ہے کہ وہ فوت ہونے کے بعد میرے ساتھ میری قبر میں دفن کیا جائے گا۔اس سے نعوذ باللہ یہ مراد نہیں کہ کسی زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کوکھود کر اس میں مسیح موعود کے جسد کو اتارا جائے گا۔یہ مادی لوگوں کی پست خیالی کی باتیں ہیں جنہیں اپنی محدود نظر میں محصور ہونے کی وجہ سے رسول پاک (فداہ نفسی ) کی عزت تک کا پاس نہیں۔بلکہ اس میں مسیح موعود کے مقام ظلیت اور بروزیت کی طرف اشارہ ہے۔اور یہ بتانا مقصود ہے کہ میری امت کا مسیح میرے ہی روحانی وجود کا ٹکڑا ہے اور وہ جو کچھ پائے گا میرے ہی فیض سے اور میرے ہی واسطہ سے اور مجھی میں سے ہو کر پائے گا۔اللهم صَلِّ عَلَيْهِ وَ عَلَى مَطَاعِهِ مُحَمّدٍ صَلَواةٌ وَسَلَامًا دَ آئِمَاً وَ وَفَقْنَا الْخِدْمَةَ دِينِكَ الْإِسْلَامِ مَا أَحْيَيْتَنَا وَابْعَثْنَا تَحْتَ أَقْدَامَ أَحِبَائِكَ إِذَا تَوَفَّيْتَنَا وَ آتِنَا مَا وَعَدَتَنَا عَلَىٰ رُسُلِكَ وَلَا تُخَذِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَاد میں نے جو یہ دعائیہ کلمات لکھے ہیں یہ جماعت کو توجہ دلانے کے لئے لکھے ہیں کہ جب خدا نے ہمیں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک جھنڈے کے نیچے ایسے ارفع مقام کا امام عطا فرمایا ہے تو جماعت کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنی ہمتوں کو بلند کر کے اور اپنے عزائم کو پختہ کر کے نہ صرف خود روحانیت میں اعلیٰ مقام