مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 543 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 543

مضامین بشیر جلد سوم 543 بہر حال حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کی روایت جو مجھے ان کے صاحبزادہ محترم شیخ محمد احمد صاحب ایڈووکیٹ لائکپور کے ذریعہ حاصل ہوئی ہے درج ذیل کی جاتی ہے۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب مرحوم فرماتے ہیں: ایک دفعہ میں نے حضرت صاحب سے عرض کیا کہ حضور جو پیشگوئیوں میں میعاد مقرر فرما دیتے ہیں کسی میں ایک سال کسی میں دو سال یا اس سے کم و بیش تو آیا حضور، اللہ تعالیٰ کے اذن اور الہام سے ایسا کرتے ہیں؟ حضور نے جواب دیا کہ اکثر تو میں اللہ تعالیٰ کے اذن اور الہام سے ہی میعاد مقرر کرتا ہوں مگر بعض اوقات میں خود بھی میعاد مقرر کر دیتا ہوں کیونکہ خدا کو میں نے دیکھا ہے اور جو تعلق اس کا میرے ساتھ ہے اس کے پیش نظر میں اس پر کامل یقین رکھتا ہوں کہ جب میں سجدے میں اس کے سامنے گروں گا تو وہ میری درخواست ضرور قبول فرمالے گا۔“ اس لطیف روایت سے جہاں ایک طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ غیر معمولی شفقت اور عزت افزائی پر بے نظیر روشنی پڑتی ہے وہاں اس بات پر بھی گویا روشنی کا ایک درخشاں سورج طلوع کرتا ہے کہ حضور کو اپنے آسمانی آقا کی محبت اور قدرشناسی اور قبولیت پر کس قدر یقین اور کس درجہ ایمان تھا۔یہ اسی قسم کا روحانی مقام ہے جس کی طرف حضرت مولانا رومی علیہ الرحمۃ نے اپنے اس شعر میں اشارہ فرمایا ہے کہ: ع گفت او گفته الله بود گرچه عبدالله بود ( مثنوی مولانا روم ) از حلقوم یعنی یہ وہ طبقہ ہے کہ جب وہ کلام کرتا ہے تو دراصل خدا کلام کر رہا ہوتا ہے گو بظاہر ایک بندے کے منہ سے آواز نکلتی نظر آتی ہے۔ایک دوسری جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے مقامِ قرب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: إِنِّي نَزَلْتُ بِمَنْزِلَةٍ مِن رَبِّي لَا يَعْلَمُهَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ وَ أَنَّ سِرِى أَخْفَىٰ وَ أَنْثَى مِنْ أكثر أهلُ اللَّهِ فَضْلاً عن عامة الاناسِ (خطبہ الہامیہ۔روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 51) یعنی مجھے اپنے آسمانی آقا کے حضور ایسا مقام حاصل ہے کہ لوگوں میں سے کوئی اس پر آگاہ نہیں اور میرا روحانی را ز اتنا مخفی اور لوگوں کی نظروں سے اس قدر دور ہے کہ وہ اکثر اہل اللہ سے بھی پوشیدہ ہے چہ جائیکہ