مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 540 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 540

مضامین بشیر جلد سوم خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بصرہ نے اسے روک دیا اور فرمایا ( غالبا اس قسم کے الفاظ تھے ) کہ یہ جائز نہیں اس طرح بدعت کا رستہ کھلتا ہے“ 540 حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے اوپر والے فتویٰ کے ساتھ حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ کا یہ فتوی مل کر ایک مکمل فتوی بن جاتا ہے۔جس میں اس مسئلہ کے سارے پہلو آ جاتے ہیں۔اور حقیقت بھی یہی ہے کہ گو کسی قبر پر پھول ڈالنا بظاہر ایک معصوم سی بات نظر آتی ہے بلکہ اس میں بظاہر میت کا اکرام بھی پایا جاتا ہے لیکن غور کرنے والا انسان سمجھ سکتا ہے کہ اس میں دو قسم کی خرابیوں کے پیدا ہونے کا بھاری خطرہ ہے۔(1) اول یہ کہ اس طرح آہستہ آہستہ شرک کا رستہ کھلتا ہے اور شروع میں عام اکرام کی نیت سے ابتداء ہو کر بالآخر قبروں کے غیر معمولی اجلال و احترام بلکہ قبر پرستی تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔چنانچہ اس زمانہ میں لاکھوں مسلمان قبروں کو سجدہ کر کے اپنی عاقبت تباہ کرتے ہیں۔حالانکہ جن بزرگوں کی قبروں پر سجدہ کیا جاتا ہے وہ ہرگز اس طریق کے مؤید نہیں تھے اور جانتے تھے کہ اس کا انجام اچھا نہیں۔ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے نشہ آور چیزوں کے معاملہ میں کیا حکیمانہ ارشاد فرمایا ہے کہ: ما أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيْلَهُ حرام (سنن ابوداؤ د کتاب الاشرب) یعنی جو چیز بڑی مقدار میں نشہ پیدا کرے اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے۔اس لطیف ارشاد میں یہی حکمت ہے کہ بعض چیزوں کی ابتداء بظاہر چھوٹی اور معمولی معلوم ہوتی ہے اور بات بالکل معصوم نظر آتی ہے لیکن چونکہ ان کا مال اور انجام تباہ کن ہوتا ہے اور انسان ضعیف البنیان فطرتاً ایک چھوٹی سی بات کی ابتداء کر کے قدم آگے ہی آگے بڑھانے کا رجحان رکھتا ہے اس لئے شریعت نے کمال حکمت سے جڑ پر ہاتھ رکھ کر اس کے بظاہر معصوم حصہ کو بھی منع فرما دیا ہے تالوگ ہر قسم کی امکانی ٹھوکر سے بیچ جائیں۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مرض الموت میں فرمایا تھا کہ دیکھنا میرے بعد میری قبر کو سجدہ گاہ نہ بنا لینا۔آپ جانتے تھے کہ آپ کے صحابہ ہرگز ایسا نہیں کریں گے مگر آپ دور کے خطرات کو دیکھ رہے تھے۔(2) دوسرا نفسیاتی نکتہ اس ارشاد میں یہ ہے کہ اگر مرنے والا خدا کے فضل سے نیک اور جنتی ہے تو اس کی قبر پر پھول چڑھانا اس کے لئے کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔کیونکہ جو روح جنت میں پہنچ گئی اور جنت کی عدیم المثال نعمتوں میں داخل ہوگئی یا کم از کم اس کے رستہ پر پڑ گئی اس کے لئے یہ ارضی پھول کیا حقیقت رکھتے ہیں ؟ اور اسے ان پھولوں سے کیا خوشی پہنچ سکتی ہے؟ بلکہ وہ تو جنت کے پھولوں کے سامنے