مضامین بشیر (جلد 3) — Page 534
مضامین بشیر جلد سوم 534 حقیقی مقام کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔حق یہ ہے کہ جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے خلافت ایک روحانی نظام ہے جو خدا تعالیٰ کے خاص تصرف کے ماتحت نبوت کے تتمہ اور تکملہ کے طور پر قائم کیا جاتا ہے اور گواس میں مصلحت الہی سے بظاہر لوگوں کی رائے کا بھی دخل ہوتا ہے مگر حقیقت وہ خدا تعالیٰ کی خاص تقدیر کے ماتحت قائم ہوتا ہے اور پھر وہ ایک اعلی درجہ کا الہی انعام بھی ہے پس اس کے متعلق کسی صورت میں عزل کا سوال پیدا نہیں ہوسکتا۔اسی لئے حضرت عثمان کی خلافت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ خدا تجھے ایک قمیص پہنائے گا مگر منافق لوگ اسے اتارنا چاہیں گے لیکن تم اسے ہرگز نہ اُتارنا“۔اس مختصر ارشاد میں خلافت کے بابرکت قیام اور عزل کی ناپاک تحریک کا سارا فلسفہ آ جاتا ہے۔پھر نادان لوگ اتنا بھی نہیں سوچتے کہ اگر باوجود اس کے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے اس کے عزل کا سوال اٹھ سکتا ہے تو پھر نعوذ باللہ ایک نبی کے عزل کا سوال کیوں نہیں اٹھ سکتا ؟ پس حق یہی ہے کہ خلفاء کے عزل کا سوال بالکل خارج از بحث ہے اور انبیاء کی طرح ان کے مزعومہ عزل کی ایک ہی صورت ہے کہ خدا انہیں موت کے ذریعہ دنیا سے اٹھا لے۔خوب یا د رکھو کہ خلافت کے عزل کا سوال خلافت کے قیام کی فرع ہے نہ کہ ایک مستقل سوال۔پس اگر یہ ایک حقیقت ہے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں اس نے بار بار ا علان فرمایا ہے اور جیسا کہ ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر اور حضرت عثمان کے معاملہ میں صراحت فرمائی ہے تو عزل کا سوال کسی سچے مومن کے دل میں ایک لمحہ کے لئے بھی پیدا نہیں ہوسکتا۔اسلام تو اس ضبط ونظم کا مذہب ہے کہ اس نے دنیوی حکمرانوں کے متعلق بھی جو محض لوگوں کی رائے سے یا ورثہ کی صورت میں قائم ہوتے ہیں تعلیم دی ہے کہ ان کے خلاف سراٹھانے اور ان کے عزل کی کوشش کرنے کے درپے نہ ہو إِلَّا انُ تَرَوْا كُفْراً بَوَّاحًا ( سوائے اس کے کہ تم ان کے رویہ میں خدائی قانون کی صریح بغاوت پاؤ) تو کیا وہ خدا کے بنائے ہوئے خلفاء اور نبی کے مقدس جانشینوں کے متعلق عزل کی اجازت دے سکتا ہے؟ هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ لِمَا تُوعَدُونَ (المومنون : 37)۔خلافت کا زمانہ بالآخر اس بحث میں خلافت کے زمانہ کا سوال پیدا ہوتا ہے۔سو ظاہر ہے کہ جب خلافت خدا کا ایک انعام ہے اور وہ نبوت کے کام کی تکمیل کیلئے آتی ہے تو لازماً اس کے قیام کی وہی شرطیں سمجھی جائیں گی۔اوّل یہ کہ خدائے حکیم و علیم کے علم میں مومنوں کی جماعت میں اس کی اہلیت رکھنے والے لوگ موجود ہوں اور