مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 531 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 531

مضامین بشیر جلد سوم 531 ان کی رائے کو اہل شخص کی طرف مائل کر دیتا ہے۔اسی لئے قرآن شریف میں ہر جگہ خلفاء کے تقرر کو خدا تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کیا ہے اور بار بار فرمایا ہے کہ خلیفہ میں بناتا ہوں۔اور اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر کی خلافت کے متعلق حدیث میں فرماتے ہیں کہ میرے بعد خدا اور مومنوں کی جماعت ابوبکر کے سوا کسی اور شخص کی خلافت پر راضی نہیں ہوں گے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی رسالہ الوصیت میں یہی نکتہ بیان فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خدا تعالیٰ نے خود حضرت ابو بکر کو کھڑا کر کے مسلمانوں کی گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیا اور حضرت ابو بکر کی مثال پر خود اپنے متعلق بھی فرماتے ہیں کہ میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو خدا کی دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔ان حوالوں سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ گو بظاہر خلافت کے تقرر میں مومنوں کی رائے کا بھی دخل ہوتا ہے لیکن حقیقتا نقد یر خدا کی چلتی ہے۔خلافت کی علامات اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ خلافت کی علامات کیا ہیں جن سے ایک سچے خلیفہ کو شناخت کیا جا سکے؟ سو جاننا چاہئے کہ جیسا کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہوتا ہے ایک خلیفہ برحق کی دو بڑی علامتیں ہیں۔ایک علامت وہ ہے جو سورہ نور کی آیت استخلاف میں بیان کی گئی ہے یعنی لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِيٍّ شَيْئًا (النور: 56) یعنی بچے خلفاء کے ذریعہ خدا تعالیٰ دین کی مضبوطی کا سامان پیدا کرتا ہے اور مومنوں کی خوف کی حالت کو امن سے بدل دیتا ہے۔یہ خلفاء صرف میری ہی عبادت کرتے ہیں اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتے۔پس جس طرح ہر درخت اپنے ظاہری پھل سے پہچانا جاتا ہے اُسی طرح ہر سچا خلیفہ اپنے اس روحانی پھل سے پہچانا جاتا ہے جو اس کی ذات کے ساتھ ازل سے مقدر ہو چکا ہے۔دوسری علامت حدیث میں بیان کی گئی ہے جو یہ ہے کہ استثنائی حالات کو چھوڑ کر ہر خلیفہ کا انتخاب مومنوں کی اتفاق رائے یا کثرت رائے سے ہونا چاہئے۔کیونکہ گو حقیقتاً تقدیر خدا کی چلتی ہے مگر خدا نے اپنی حکیمانہ تقدیر کے ماتحت خلفاء کے تقرر میں بظاہر مومنوں کی رائے کا بھی دخل رکھا ہوا ہے جیسا کہ حضرت ابوبکر کی خلافت کے تعلق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ يَدْفَعُ اللهُ وَ يَأْتِي الْمُؤْمِنُونَ یعنی نہ تو خدائی تقدیر ابوبکر کے سوا کسی اور کو خلیفہ بنے دے گی اور نہ ہی مومنوں کی جماعت کسی اور کی خلافت پر راضی ہو گی۔پس ہر