مضامین بشیر (جلد 3) — Page 530
مضامین بشیر جلد سوم 530 خلیفہ کا لفظ دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔اوّل وہ ربانی مصلح جو خدا کی طرف سے دنیا میں کسی اصلاحی کام کے لئے مامور ہو کر مبعوث کیا جاتا ہے۔چنانچہ اس معنی میں تمام انبیاء اور رسول خلیفۃ اللہ ہوتے ہیں۔کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے نائب ہونے کی حیثیت میں کام کرتے ہیں اور انہی معنوں میں قرآن شریف نے حضرت آدم اور حضرت داؤد کو ” خلیفہ کے نام سے یاد کیا ہے۔دوم وہ برگزیدہ شخص جو کسی نبی یا روحانی مصلح کی وفات کے بعد اس کے کام کی تکمیل کے لئے اس کا قائم مقام اور اس کی جماعت کا امام بنتا ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما خلیفہ بنے۔خلافت کی ضرورت دوسرا سوال خلافت کی ضرورت کا ہے۔یعنی نظام خلافت کی ضرورت کس غرض سے پیش آتی ہے؟ سو اس کے متعلق جاننا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر کام حکمت و دانائی کے ماتحت ہوتا ہے۔چونکہ اس کے قانونِ طبعی کے ماتحت انسان کی عمر محدود ہے لیکن اصلاح کا کام لمبے زمانہ کی نگرانی اور تربیت چاہتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے نبوت کے بعد خلافت کا نظام مقرر فرمایا ہے تا کہ نبی کی وفات کے بعد خلفاء کے ذریعہ اس کے کام کی تکمیل ہو سکے۔گویا جو تم نبی کے ذریعہ بویا جاتا ہے اسے خدا تعالیٰ خلفاء کے ذریعہ اس حد تک تکمیل کو پہنچانے کا انتظام فرماتا ہے کہ وہ ابتدائی خطرات سے محفوظ ہو کر ایک مضبوط پودے کی صورت اختیار کر لے۔اس سے ظاہر ہے کہ خلافت کا نظام دراصل نبوت کے نظام کی فرع اور اس کا تتمہ ہے۔اسی لئے ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم حدیث میں فرماتے ہیں کہ ہر نبوت کے بعد خلافت کا نظام قائم ہوتا ہے۔خلافت کا قیام چونکہ خلافت کا نظام نبوت کے نظام کی فرع اور اس کا تتمہ ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے قیام کو نبوت کی طرح اپنے ہاتھ میں رکھا ہے تا کہ خدا کے علم میں جو شخص بھی حاضر الوقت لوگوں میں سے اس بوجھ کو اٹھانے کے لئے سب سے زیادہ موزوں ہو وہی مسندِ خلافت پر متمکن ہو سکے۔البتہ چونکہ نبی کی بعثت کے بعد مومنوں کی ایک جماعت وجود میں آچکی ہوتی ہے اور وہ نبوت کے فیض سے تربیت یافتہ بھی ہوتی ہے اس لئے خدا تعالیٰ خلافت کے انتخاب میں مومنوں کو بھی حصہ دار بنا دیتا ہے تا کہ وہ اس کی اطاعت بجالانے میں زیادہ شرح صدرمحسوس کریں۔اس طرح خلیفہ کا انتخاب ایک عجیب وغریب مخلوط قسم کا رنگ رکھتا ہے کہ بظاہر مومن انتخاب کرتے ہیں مگر حقیقتا خدا کی تقدیر پوری ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ مومنوں کے دلوں پر تصرف فرما کر