مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 528 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 528

مضامین بشیر جلد سوم 528 کاموں میں حصہ لینے کی صورت میں ہو۔اور جن کے لئے ممکن ہو وہ اپنے آپ کو وقف جدید کے سلسلہ میں پیش کر دیں۔( ب ) وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح اپنی اولاد کی بھی قربانی پیش کریں۔یعنی ان کی اولاد میں سے جو بچے وقف نہ ہوسکیں انہیں وہ سلسلہ کی خدمت کے لئے وقف کریں حتی کہ سلسلہ کے تمام کارکن وقف شدہ ہو جائیں۔اور جو بچے وقف ہوسکیں ان کو تلقین کریں اور ان کی نگرانی رکھیں کہ وہ بھی اپنے اوقات کا ایک معقول حصہ لازماً دین کی خدمت اور جماعتی کاموں میں لگایا کریں۔اس تعلق میں دوستوں کو یہ نکتہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بچے صاحبزادہ حضرت ابراہیم کے متعلق جو یہ فرمایا تھا کہ لَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِ يُقانَبيَّا ( سنن ابن ماجہ کتاب الجنائز ) اس میں بھی اس لطیف نکتہ کی طرف اشارہ کرنا مقصود تھا کہ اگر میرا یہ بچہ زندہ رہتا تو وہ دین کی خدمت کے لئے کلیتہ وقف ہوتا جیسا کہ سارے انبیا ء ہی وقف ہوا کرتے ہیں۔(دوم) وہ مال کی قربانی بھی کریں جو اس زمانہ کے لحاظ سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔کیونکہ دینی لٹریچر کی اشاعت اور تبلیغی مراکز کا قیام اور مبلغوں اور معلموں اور محصلوں کے معاوضے اور دیگر جماعتی کارکنوں کی تنخواہیں اور مہمان نوازی اور غرباء کی امداد و غیرہ وغیرہ سب ایسے کام ہیں جن کے لئے روپے کی ضرورت ہے۔پس عیدالاضحیہ کی قربانی جماعت پر یہ بھاری ذمہ داری بھی ڈالتی ہے کہ وہ دین کی خاطر مالی قربانی کے لئے استادہ ہو جائیں۔چندہ نہ دینے والے آئندہ با قاعدہ چندہ دیں۔شرح سے کم دینے والے اپنا چندہ بڑھا کر شرح کے مطابق کر دیں۔تحریک جدید کے چندوں میں کوتاہی کرنے والے اپنی سستی دور کریں کیونکہ یہ چندہ وہ ہے جس پر تمام بیرونی ممالک کی تبلیغ کا دارو مدار ہے )۔وصیت کی طرف سے غفلت برتنے والے اس بابرکت نظام کی اہمیت کو سمجھیں وغیرہ وغیرہ۔میں یقین رکھتا ہوں کہ ذوالقرنین والی آیات کی وہ تشریح جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر چسپاں ہوتی ہے اس میں زُبَرَ الْحَدِيدِ (الکہف: 97) (لوہے کے ٹکڑوں ) سے چندہ ہی مراد ہے۔(سوم) ایک اور قربانی بھی میرے خیال میں نہایت اہم ہے اور وہ جماعتی اتحاد سے تعلق رکھتی ہے۔قرآن مجید مومنوں کی جماعت کے متعلق بنیان مرصوص کے الفاظ استعمال فرماتا ہے۔یعنی ایسی دیوار جس کی در زمیں پچھلے ہوئے سیسے سے اس طرح بھر دی جائیں کہ اس میں کوئی رخنہ باقی نہ رہے۔اور اس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مَنْ شَدَّ شُدَّ فِی النَّارِ یعنی جس شخص نے جماعت کے اتحاد