مضامین بشیر (جلد 3) — Page 521
مضامین بشیر جلد سوم 521 ہے جسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ہم صرف اس قدر کہہ سکتے ہیں کہ جب لیلۃ القدر کا ظہور ہوتا ہے تو دعا کرنے والا مومن ایک طرف تو آسمان سے انتشار روحانیت کا خاص نزول محسوس کرتا ہے جو نہ صرف اس کے دل اور دماغ کو منور کر دیتا ہے بلکہ اس کا ماحول بھی آسمانی نور سے جگمگا اٹھتا ہے۔اور دوسری طرف اس کی دعا اور مناجات میں ایک خاص رنگ کی کیفیت اور پاکیزگی اور بلندی پیدا ہو جاتی ہے۔اور وہ ایسا محسوس کرتا ہے کہ گویا اس کی دعا کو غیر معمولی پر لگ گئے ہیں جس کے نتیجہ میں وہ آسمان کی طرف اڑ اڑ کر پہنچ رہی ہے۔اور بعض اوقات بعض کشفی نظارے بھی نظر آ جاتے ہیں اور دل پکار اٹھتا ہے کہ یہ ایک خاص گھڑی ہے۔یعنی بقول شخصے : ع کرشمہ دامن دل میکشد که جا ایں جاء ست لیلۃ القدر کے تعلق میں آخری سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی شخص کو لیلتہ القدر میسر آ جائے تو وہ کیا دعا مانگے ؟ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس تعلق میں ہماری جماعت کے بعض علماء بھی غلطی خوردہ ہیں۔کیونکہ وہ ایک حدیث کا غلط مفہوم سمجھنے کی وجہ سے لیلۃ القدر کی دعاؤں کو ایک نہایت تنگ دائرہ کے اندر محدود کر دیتے ہیں۔حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت عائشہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اگر میں لیلتہ القدر کو پاؤں تو کیا دعا کروں؟ آپ نے فرمایا یہ دعا کرو کہ اَللّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّى - (صحیح بخاری کتاب الصوم) یعنی اے میرے خدا! تو بے حد معاف کرنے والا آقا ہے اور اپنے بندوں کو معاف کرنے میں خوشی محسوس کرتا ہے۔پس میرے گناہ بھی معاف فرما۔اس حدیث سے بعض لوگوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ گویا رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے لیلۃ القدر کے لئے صرف اس دعا پر حصر فرمایا ہے جو اس حدیث میں بیان کی گئی ہے۔حالانکہ گو یہ دعا بہت عمدہ دعا ہے اور عفو کا مقام عام مغفرت سے یقیناً زیادہ بلند ہے۔کیونکہ جہاں مغفرت کے معنی صرف بخشنے اور پردہ پوشی کرنے کے ہوتے ہیں وہاں عفو کے معنی گناہوں کو مٹادینے اور انہیں کا لعدم کر دینے اور دعا کرنے والے کو ان کے بداثرات سے کلی طور پر محفوظ کر دینے کے ہیں۔اور یقیناً مؤخر الذکر مفہوم زیادہ ارفع اور زیادہ اکمل ہے لیکن بہر حال یہ دعا ایک منفی قسم کی انفرادی دعا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ مجھنا کہ آپ نے لیلۃ القدر جیسی عظیم الشان گھڑی کے متعلق اس قسم کی محدود اور منفی اور انفرادی دعا پر حصر کیا ہو گا کسی طرح درست نہیں۔دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریق تھا کہ بعض اوقات مخاطب کو وقتی حالات کے