مضامین بشیر (جلد 3) — Page 520
مضامین بشیر جلد سوم 520 یعنی جب آخری عشرہ آتا تھا تو آپ اپنی کمر کس لیتے تھے۔(جس شخص کی کمر کبھی بھی ڈھیلی نہ ہوئی ہو اس کے متعلق کمر کے کتنے کی شان کا خود قیاس کرلو ) اور اپنی رات کو ( جو ویسے بھی ہمیشہ زندہ رہتی تھی ) اپنی مخصوص عبادت کے ذریعہ غیر معمولی زندگی سے معمور کر دیتے تھے اور اپنے اہل کو بھی رات کی خاص عبادت کے لئے جگاتے تھے۔پس اب جب کہ رمضان کا آخری عشرہ قریب آرہا ہے جو گو یا رمضان کی گہان یعنی اس کی بلند ترین چوٹی ہے ( اور یہی اعتکاف کے دن بھی ہیں ) میں دوستوں کی خدمت میں ایک بار پھر یہ تحریک کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اس عشرہ کے لئے اپنی کمریں کس لیں اور اپنی مُردہ راتوں کو زندہ کرنے کے لئے تیار ہو جائیں اور اپنے اپنے گھروں میں اپنے اہل و عیال کو بھی نوافل اور ذکر الہی اور دعاؤں کے واسطے جگائیں تا کہ سارا گھر رمضان کی برکات سے معمور ہو جائے اور غروب آفتاب سے لے کر طلوع فجر تک خدائی سلام ورحمت کا نزول ہو کر ان کے دلوں کو منور کر دے۔یہ ہرگز نہیں سمجھنا چاہئے کہ جسمانی بارش کی طرح آسمان سے اترنے والی روحانی بارش بھی ہر زمین کو یکساں سیراب کرتی ہے۔کیونکہ بعض باتوں میں مشابہت رکھنے کے باوجود دونوں بارشوں میں یہ اصولی فرق ہے کہ جہاں زمینی بارش ہر اچھی اور بری زمین پر یکساں نازل ہوتی ہے وہاں آسمانی بارش کا نزول صرف نیک دلوں کے ساتھ مخصوص ہے اور غافل اور گندے اور بدفطرت انسانوں کو اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔اور ایک رات تو در کنار ہزار لیلۃ القدر کا ظہور بھی انہیں بدستور تاریکیوں میں مبتلا چھوڑ کر آگے گزر جاتا ہے۔جیسا کہ قرآن مجید خود فرماتا ہے وَالَّذِي خَبُثَ لَا يَخْرُجُ إِلَّا نكدا(الاعراف: 59) یعنی جس شخص کے دل کی زمین گندی ہوتی ہے وہ روحانی بارش کے باوجود گندی فصل اگانے کے سوا کوئی فائدہ نہیں دیتی۔پس ضروری ہے کہ خدا سے ڈرتے ہوئے اور اپنے دلوں میں تقویٰ پیدا کرتے ہوئے نیک نیت کے ساتھ اس عشرہ میں قدم رکھو۔یہ سوال کہ لیلتہ القدر کی ظاہری علامت کیا ہے ایک مشکل سوال ہے۔کیونکہ حق یہ ہے کہ لیلۃ القدر کی کوئی ایسی ظاہری علامت نہیں ہے جسے قطعی قرار دیا جا سکے۔بعض حدیثوں میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک لیلۃ القدر میں ایک بادل آکر کچھ تر شح ہوا تھا۔لیکن یہ علامت مستقل اور دانگی علامت نہیں ہے۔بلکہ غالبا اس سال کے ساتھ مخصوص تھی۔گو بعید نہیں کہ کسی اور سال میں بھی اس قسم کی ظاہری علامت پیدا ہو جائے۔کیونکہ خدا کے مادی اور روحانی نظاموں میں ایک قسم کی مشابہت پیدا پائی جاتی ہے۔لیکن لیلتہ القدر کی اصل علامت قلب مومن کے روحانی احساس سے تعلق رکھتی