مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 500 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 500

مضامین بشیر جلد سوم 500 پرویز صاحب کے اس مضمون پر جو لا تعلق بھی ہے اور دل آزار بھی حق ایڈیٹری استعمال کر کے اسے کاٹ دیتے یا اس کی اصلاح کر دیتے۔اسلم پرویز صاحب کو میرے خلاف ایک شکایت یہ ہے کہ میں خود بہت سی کمزوریوں میں مبتلا ہوں۔جس پر بقول اسلم صاحب حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ کئی دفعہ مجھے تو بیخ فرما چکے ہیں وغیرہ وغیرہ۔میں اپنے اصلاحی مضمون کے ساتھ اسلم صاحب کے اس اعتراض کا کوئی جوڑ نہیں سمجھ سکا اور نہ میں نے غلطیوں سے پاک ہونے کا دعوی کیا ہے۔بلکہ اگر اسلم صاحب کھلی آنکھ سے دیکھتے تو میرے مضمون کے نیچے خاکسار راقم آثم“ کے الفاظ ہی ان کی ہدایت کے لئے کافی تھے کہ میں اپنے آپ کو ایک کمزور انسان سمجھتا ہوں۔مگر اس بات کا کیا علاج ہے کہ بغض میں اچھے بھلے لوگوں کی آنکھیں بھی اندھی ہو جایا کرتی ہیں۔اگر بقول اسلم پرویز حضرت خلیفۃ اسی اثنی ایدہ اللہ نے مجھے کس معاملہ میں تنبیہ فرمائی تو وہ امام بھی ہیں اور بڑے بھائی بھی۔انہیں ہر طرح اس کا حق ہے۔حضرت خلیفتہ امیج ایدہ اللہ کی تنبیہہ یا توبیخ کے امکانا دوہی پہلو ہو سکتے ہیں۔یا تو حضور میری کسی حقیقی لغزش اور کمزوری پر اصلاح کی غرض سے ناراضگی کا اظہار فرمائیں۔اور یا حضور کسی غلط فہمی کی بنا پر نیک نیتی کے ساتھ سرزنش کا طریق اختیار کریں کیونکہ جب اجتہادی طور پر ایک نبی اور مامور من اللہ تک کو غلطی لگ سکتی ہے تو حضور تو بہر حال ایک مامور من اللہ کے خلیفہ ہیں ) مگر دونوں صورتوں میں میرا سر امام کے سامنے خم ہے۔اور یہی خدا اور رسول کی تعلیم ہے تو پھر اسلم پرویز ہمارے معاملہ میں ٹانگ اڑانے والے کون ہوتے ہیں؟ یا تو وہ مجھے اکساتے ہیں جس سے میں خدا کے فضل سے بالا ہوں ولا فخر اور یاوہ خوانخواہ اپنی گندی ذہنیت کا اظہار کرنا چاہتے ہیں جس کے لئے نیش عقرب نہ از پئے کین است والی مثال پہلے سے زبان زد خلائق ہے۔ایک اعتراض اسلم پرویز صاحب کا یہ ہے کہ میری اولاد میں بعض کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔اور یہ کہ میں جب دوسروں کو نصیحت کرتا ہوں تو اپنی اولاد کی فکر کیوں نہیں کرتا۔؟ اسلم صاحب کو معلوم ہونا چاہئے کہ میں اپنی اولاد کو فرشتے خیال نہیں کرتا۔بلکہ اپنی طرح کے گوشت پوست کے کمزور انسان سمجھتا ہوں۔میں انہیں ہمیشہ نصیحت کرتا ہوں اور ان کے لئے خدا کے حضور سربسجو درہتا ہوں۔مگر میں یقین رکھتا ہوں کے خدا کے فضل سے وہ جماعت کے غیور فرزند ہیں۔اور اگر ان میں کوئی کمزوری ہے تو کم از کم وہ ایسے نہیں کہ اسلم صاحب کی طرح جس درخت پر بسیرا کریں اسی کی شاخ کو کاٹنے لگ جائیں۔پھر میں پوچھتا ہوں (اور یہی میرا اصل جواب ہے ) کہ میں نے اپنے مضمون میں جن نو جوانوں کو