مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 497 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 497

مضامین بشیر جلد سوم 497 اپنے نفسوں میں جاری کرنے اور دوسروں تک پہنچانے میں انتہائی جدو جہد سے کام لیں تا کہ قیامت کے دن آپ لوگوں کے نزدیک سرخرو ہوں۔بنگال کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس کا ذکر خدا تعالیٰ کے الہام میں آیا ہے۔اور پھر برہمن بڑیہ کے ایک مرحوم بزرگ کا ذکر بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض تصنیفات میں موجود ہے۔پس آپ لوگوں پر ڈہری ذمہ داری ہے کہ نہ صرف خود اس تعلیم کا نمونہ بنیں جو اسلام کی تشریح میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمائی ہے۔بلکہ دوسروں تک بھی اس تعلیم کو پہنچانے کی کوشش کریں۔تا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی اس تقدیر کو قریب لانے میں مددگار بن جائیں جو اس زمانہ کے لئے مقدر ہو چکی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو۔آپ کے اس جلسہ کو مبارک کرے اور اس کے بہترین نتائج پیدا فرمائے۔آمین روزنامه الفضل ربوه 26 فروری 1958ء) ”پیغام صلح کی افسوسناک ذہنیت اسلم پرویز کے اعتراضات کا اصولی جواب میں نے الفضل مؤرخہ 8 فروری 1958 ء میں ایک مضمون ” نیا سال اور ہماری ذمہ داریاں“ کے عنوان کے ماتحت لکھا تھا۔جس میں جماعت کے نوجوانوں کو اصلاح کی طرف توجہ دلانے کے علاوہ اس بات کی بھی تحریک کی گئی تھی کہ جماعت کے متعلق جو غلط فہمیاں آج کل غیر از جماعت مخالفوں کی طرف سے بیش از پیش تکرار اور اصرار کے ساتھ پھیلائی جارہی ہیں ان کے ازالہ کی طرف خاص توجہ دی جائے اور اس کے ساتھ ساتھ میں نے دعاؤں کی بھی تحریک کی تھی۔میرا یہ مضمون خالصتاً اصلاح وارشاد کی نوعیت کا تھا۔تاکہ جماعت کے اندر اور باہر اچھی فضاء پیدا ہو اور صداقت کی پُر امن اشاعت کا رستہ کھلے۔مگر میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب میں نے اخبار ”پیغام صلح مؤرخہ 5 مارچ 1958 ء میں ایک غیر معروف شخص محمد اسلم صاحب پرویز ایم۔اے نہرو پارک لاہور کا ایک مضمون پڑھا جو میرے مذکورہ بالا مضمون کے جواب میں لکھا گیا ہے۔اول تو میرا مضمون ہرگز ایسی نوعیت کا نہیں تھا جس کے جواب میں پیغام صلح یا اس کے کسی نامہ نگار کو جواب کی ضرورت محسوس ہوتی۔میر امضمون اصلاحی نوعیت کا تھا۔جس میں نہ تو اہل پیغام کا کوئی ذکر تھا اور نہ