مضامین بشیر (جلد 3) — Page 494
مضامین بشیر جلد سوم 494 کے دلوں کا زنگ صاف ہو۔وہاں دوسری طرف ان کے دل نورانی صیقل کے ذریعہ روشن ہوتے چلے جائیں۔اور یہی وہ دوطریق ہیں جو روحانی مصلحوں نے ہمیشہ استعمال کئے ہیں۔پس جماعت احمدیہ کو چاہئے کہ خاص توجہ کے ساتھ ان دونوں طریقوں کو استعمال کر کے اسلام اور احمدیت کے غلبہ کے دن کو قریب سے قریب ترلے آئے۔اس غرض کے لئے ان دوسکیموں پر زور دینا نہایت ضروری ہے جو خدائی نصرت کے ماتحت گزشتہ سال کے آخر اور اس سال کے شروع میں جاری کی گئی ہیں۔ان میں سے ایک سکیم وقف جدید کی ہے جو حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جاری فرمائی ہے۔جس میں وقف کی وسیع سکیم کے ساتھ ساتھ اس کام کو چلانے کے لئے کم از کم چھ روپے فی کس چندہ کی بھی تحریک کی گئی ہے۔اس سکیم کی غرض و غایت کے ماتحت مغربی پاکستان کے طول و عرض میں ارشاد و اصلاح کا ایک وسیع پیغام مرتب کیا گیا ہے۔اور دوسری سکیم وہ ہے جو حضرت خلیفہ اسیح کی منظوری سے محترم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے جلسہ سالانہ کے موقع پر پیش کی تھی۔جس کا مقصد ربوہ کے ماحول کی اصلاح ہے۔خدا کے فضل سے یہ دونوں سکیمیں بہت ضروری اور اپنے نتائج کے لحاظ سے نہایت مبارک اور بہت دور رس ہیں۔پس دوستوں کو چاہئے کہ اس سال کے پروگرام میں ان دونوں سکیموں کو خصوصیت کے ساتھ مدنظر رکھیں اور انہیں کامیاب بنانے کے لئے پوری پوری جد و جہد اور انتہائی قربانی سے کام لیں۔ان سکیموں کی تفصیل الفضل میں بار بار آچکی ہے اور اس جگہ اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔خلاصہ کلام یہ کہ اب جبکہ نیا سال شروع ہو رہا ہے۔دوستوں کو چاہئے کہ اپنے حالات اور خطرات کا پورا پورا جائزہ لے کر ایک طرف تو اپنے نو جوانوں کی اصلاح کے متعلق خاص توجہ دیں۔تا کہ وہ صرف نسلی یعنی نام کے احمدی نہ رہیں بلکہ حقیقی احمدی بن کر اسلام اور احمدیت کے حق میں گویا ایک زبردست مقناطیس بن جائیں۔جو نہ صرف خود پاک ہو بلکہ دوسروں کو بھی اپنے پاک نمونہ سے اپنی طرف کھینچتا چلا جائے اور دوسری طرف وہ احمدیت کے متعلق بے بنیاد غلط فہمیوں کو دور کر کے احمدیت کے دلکش نقوش اور اس کی اسلامی خدمات کو لوگوں تک اس طرح پہنچا ئیں کہ ملک کی فضاء خدائی نور سے معطر ہو جائے۔اور ہر شخص عہد کرے کہ میں نے اوپر کی دوسکیموں کو کامیاب بنا کر دم لینا ہے۔إِنَّ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ (الحج:71) تیسری بات یہ ہے کہ حضرت خلیفہ اسی الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر کی صحت اور کام کی طاقت اور توانائی کی پوری پوری بحالی کے واسطے خاص طور پر دعا کی جائے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کے احسان کو