مضامین بشیر (جلد 3) — Page 492
مضامین بشیر جلد سوم 492 بدنام کرنے اور اور جماعت کی بے نظیر اسلامی خدمات کو تخفیف کی نظر سے دیکھنے میں گویا لذت اور فخر محسوس کرتے ہیں۔میرا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ملک کا ہر فرد اس مرض میں مبتلا ہے۔کیونکہ بلاشبہ ملک کے ہر طبقہ میں ایک حصہ ایسا موجود ہے جو شرافت اور انصاف کے مقام پر قائم ہے اور بعض عقائد میں اختلاف کے باوجود جماعت کے معاملہ میں بے انصافی کی طرف نہیں جھکتا۔بلکہ جماعت کی اسلامی خدمات کی وجہ سے اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتا اور اس کے محاسن کی بر ملا تعریف کرتا ہے اور اس کا اعتراف نہ کرنا یقیناً ناشکری ہو گی مگر عوام الناس کا قریباً قریباً وہی حال ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔یعنی یہ کہ اکثر لوگ احمدیت کی مخالفت میں یکساں رنگین نظر آتے ہیں اور مولویوں یا اخبار نویسوں یا آتش زیر پا مقرروں کی طرف سے اکسائے جانے پر اس طرح بھڑک اٹھتے ہیں جس طرح کہ ایک خشک لکڑی دیا سلائی دکھانے پر شعلہ زن ہونے لگتی ہے۔اور ضروری تھا کہ ایسا ہوتا کیونکہ قرآن مجید وضاحت کے ساتھ فرماتا ہے کہ: يحَسُرَةٌ عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُ وُنَ (يس:31) یعنی اے افسوس ان لوگوں پر کہ ہماری طرف سے ان کے پاس کوئی پیغامبر ایسا نہیں آتا کہ وہ ہمارے بندے ہونے کے باوجود اس کی مخالفت میں ہنسی ٹھٹھا نہ کرنے لگ جاتے ہوں۔یہ مخالفت ایک طرف تو منکروں کے لئے امتحان اور ابتلاء کا سامان مہیا کرتی ہے کیونکہ وہ ان حالات میں خاص قربانی کے بغیر حق کی طرف قدم اٹھانے کی جرات نہیں کر سکتے اور دوسری طرف یہ مخالفت ماننے والوں کو بیدار رکھنے اور حق کی اشاعت میں زیادہ سے زیادہ جد و جہد کرنے کی طرف توجہ دلاتی رہتی ہے۔کیونکہ گو خدائی مرسلوں کے آخری غلبہ کے متعلق قرآن مجید حتمی وعدہ فرماتا ہے ( کہ میں اور میرے رسول ضرور غالب ہوں گے ) مگر کوئی سچا مومن اس بات کی طرف سے غافل نہیں رہ سکتا کہ آخری غلبہ سے پہلے درمیانی طوفانوں کا آنا بھی ناگزیر ہے۔اور ان طوفانوں کے نتیجہ میں غلبہ کا وقت پیچھے پڑسکتا ہے اور قومیں بھی بدل جایا کرتی ہیں۔پس ضروری ہے کہ موجودہ خطرات کا جائزہ لے کر اس زہر کا ازالہ کیا جائے جو اس وقت جماعت احمدیہ کے خلاف پیدا کیا جا رہا ہے اور یہ ازالہ دو طرح سے ہو سکتا ہے: (الف) جو غلط فہمیاں جماعت کے متعلق پیدا کی جارہی ہیں خواہ وہ عقائد سے تعلق رکھتی ہوں یا جماعتی تنظیم سے یا جماعت کے طریق کار سے انہیں صحیح حالات بتا کر اور صحیح تشریحات پیش کر کے دور کیا جائے۔مثلاً ( اور میں یہ صرف مثال کے طور پر بیان کر رہا ہوں ) کہا جاتا ہے کہ خاکش بدہن جماعت احمدیہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( فدا نفسی ) کی ختم نبوت کی منکر ہے یا یہ کہ نعوذ باللہ جماعت احمدیہ نے لا الهَ