مضامین بشیر (جلد 3) — Page 491
مضامین بشیر جلد سوم 491 اسلام اور اعانت احمدیت کے لئے چندوں سے غافل رہنے والا اور اپنی ساری آمدن اپنے نفس پر یا عزیزوں پر خرچ کرنے والا دین کو دنیا پر مقدم کرتا ہے؟ ہرگز نہیں۔کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیوند میں اور خلیفہ وقت اور مرکز کے تعلق میں کمزوری دکھانے والا دین کو دنیا پر مقدم کرتا ہے؟ ہرگز نہیں۔کیا ہر وقت اپنے مادی مفاد کی فکر میں غرق رہنے والا اور اپنا تمام وقت دنیا کے دھندوں میں گزارنے والا دین کو دنیا پر مقدم کرتا ہے؟ ہرگز نہیں۔کیا اعتراض کی طرف جلد ہی جھک جانے والا اور ان اعتراضوں کا ادھر اُدھر چرچا کرنے والا دین کو دنیا پر مقدم کرتا ہے؟ ہرگز نہیں۔کیا تجارت اور لین دین کے معاملات میں خیانت کا طریق اختیار کرنے والا دین کو دنیا پر مقدم کرتا ہے؟ ہرگز نہیں۔کیا اپنی اولاد کی دینی تربیت کی طرف بے توجہی برتنے والا دین کو دنیا پر مقدم کرتا ہے؟ ہرگز نہیں۔کیا اپنی بیوی کو بے پردگی کی طرف مائل کرنے والا اور فیشن کی خاطر قرآن وحدیث کے احکام کو پس پشت ڈالنے والا دین کو دنیا پر مقدم کرتا ہے؟ ہرگز نہیں۔مگر اے احمدی والدین اور احمدی صدر صاحبان اور اے احمدی امراء! خدا کے لئے غور کرو کہ کیا آپ کے زیر تربیت نوجوانوں کا ایک طبقہ ان کمزوریوں میں مبتلا نہیں؟ پس اس سال کے پروگرام کا ایک اہم حصہ یہ ہونا چاہئے کہ جو کمزوری بعض احمدی نوجوانوں میں پیدا ہو رہی ہے اسے خاص توجہ اور خاص کوشش کے ساتھ اور خاص نگرانی کے ماتحت دور کیا جائے۔احمدی والدین اور احمدی پریذیڈنٹ صاحبان اور احمدی امراء سب کے سب بیدار اور چوکس ہو کر اور ایک پروگرام بنا کر اس کوشش میں لگ جائیں کہ احمدی نو جوانوں کا کمز ور حصہ اپنی کمزوری کو ترک کر کے اسلام اور احمدیت کی تعلیم کا ایسا نمونہ بن جائے جو دوسروں کے لئے کشش کا موجب ہو اور دنیا ان کے چہروں میں خدا کا نور دیکھے۔اور ان کی نیکی خدائی نصرت کی جاذب بن جائے۔اور وہ اپنے کمزور نمونہ کی وجہ سے جماعت کی ترقی میں روک نہ بنیں۔بلکہ نیک نمونہ بن کر اس کی ترقی کو تیز سے تیز تر کرنے والے ثابت ہوں۔آمین اللهم آمین۔(2) دوسرا امر جو اس سال خاص بلکہ خاص الخاص توجہ چاہتا ہے یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کے خلاف پھر غلط فہمیوں کا ایک وسیع جال پھیلایا جارہا ہے۔جس کی وجہ سے ملک کا معتد بہ حصہ جماعت کے خلاف طرح طرح کی بدگمانیوں میں مبتلا ہو کر دن رات زہر فشانی میں مصروف ہے اور یہ معاندانہ رویہ صرف مولوی طبقہ تک ہی محدود نہیں بلکہ ملک کے ہر طبقہ کا ایک حصہ اس ناپاک ہولی میں اپنے ہاتھ رنگ رہا ہے۔تاجر، صناع ، زمیندار، ملازم پیشہ افراد، اخباروں کے ایڈیٹر ، عالم و جاہل ، غریب اور امیر، مزدور اور سرمایہ دار وغیرہ وغیرہ سب جماعت احمدیہ کے عقائد اور نظریات اور طریق کار کو غلط رنگ میں پیش کرنے اور جماعت کو