مضامین بشیر (جلد 3) — Page 490
مضامین بشیر جلد سوم 490 غیر احمدیوں اور غیر مسلموں ) کے لئے کسی کشش کا موجب ہے۔اس کا جماعت کے مخصوص عقائد اور جماعت کے مرکز اور خلیفہ وقت کے ساتھ نسبتا بہت کم تعلق ہے۔اور وہ اعتراض کی طرف جلدی جھک جاتا ہے اور اس کا چرچہ کرنے لگ جاتا ہے۔بے شک کئی نسلی احمدی بھی اخلاص اور عمل صالح اور روحانیت اور قربانی میں بہت اچھا مقام رکھتے ہیں۔بلکہ حق یہ ہے کہ بعض نوجوانوں کی فدائیت اور للہیت میرے لئے رشک کا موجب ہے۔مگر دوسری طرف کمزور طبقہ کی کمزوری ہر وقت طبیعت میں بے چینی کی کیفیت رکھتی ہے۔اس کمزوری کے کئی اسباب ہیں مگر زیادہ ذمہ داری ایسے نوجوانوں کے والدین اور مقامی جماعتوں کے صدر صاحبان اور امراء صاحبان پر ہے جنہوں نے ان کی تربیت کی طرف پوری توجہ نہیں دی۔اور ان کے اندر اسلام اور احمدیت کی روح داخل کرنے میں غفلت سے کام لیا ہے۔نمازوں میں ستی ، چندوں میں سستی، مرکز کے ساتھ وابستگی میں کمی بلکہ اعتراض کرنے میں جلدی اور جماعت کے محاسن کو دوسروں تک پہنچانے میں بے اعتنائی وغیرہ وغیرہ۔ایسی کمزوریاں ہیں جو نو جوان طبقہ اور خصوصاً نسلی احمدیوں کے ایک حصہ میں سرایت کر رہی ہیں۔اور دوسری طرف فوجی احمدیوں کا ایک حصہ اپنی بیویوں کو بے پر دکر کے فیشن کی اتباع میں گویا خوشی محسوس کرتا ہے۔حالانکہ فوجی لوگ بہادر سمجھے جاتے ہیں اور بہادر لوگوں کو خلاف اسلام تحریکات کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے شرم محسوس ہونی چاہئے۔بیشک پرانا پردہ بھی جس میں عورت گویا قیدیوں کی طرح محصور ہو کر گھر کی چار دیواری میں بند رکھی جاتی تھی خلاف اسلام تھا۔مگر اس کے مقابل پر موجودہ بے پردگی جس میں عورت اپنی جسمانی اور لباسی زینت کو عریاں کر کے مردوں میں بے حجابانہ ملتی جلتی ہے اس سے بڑھ کر خلاف اسلام ہے۔پس نئے سال کے ابتداء میں میری سب سے پہلی پکار یہ ہے کہ اس سال کے دوران میں احمدی والدین اور احمدی پریزیڈنٹ صاحبان اور احمدی سیکرٹریان تربیت اور احمدی امراء مقامی و امراء ضلعوار وصوبه وار اس بات کا خدا کے حضور پختہ عہد کریں کہ وہ احمدی نوجوانوں کی تربیت کی طرف خاص توجہ دیں گے۔میرے عزیز و اور دوستو دیکھو اور سمجھو کہ خدا تعالیٰ کو ظاہر سے کوئی غرض نہیں۔وہ تو حقیقت کو دیکھتا ہے اور اسی کے مطابق تم سے سلوک کرے گا۔پس صاف ہو جاؤ اور پاک ہو جاؤ اور سیدھے ہو جاؤ۔اور اس عہد کو پورا کرو جو تم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمان پر خدا کے ساتھ باندھا ہے۔یعنی یہ کہ: میں دین کو دنیا پر مقدم کروں گا“ کیا نماز میں سستی اور خدا کی یاد میں کوتاہی کرنے والا دین کو دنیا پر مقدم کرتا ہے؟ ہرگز نہیں۔کیا اعانت