مضامین بشیر (جلد 3) — Page 29
مضامین بشیر جلد سوم 29 تسلی چاہتے ہیں۔یہ مسئلہ چونکہ نہایت اہم ہونے کے علاوہ بہت سی شاخوں پر مشتمل ہے اس لئے میں انشاء اللہ اس کے متعلق کچھ عرصہ تک ایک تحقیقی مضمون لکھنے کی کوشش کروں گا۔فی الحال نہایت اختصار کے ساتھ صرف اس قدر بتانا چاہتا ہوں کہ اس بات میں کیا حکمت ہے کہ ایک دفعہ با قاعدہ منتخب ہونے کے بعد کوئی خلیفہ بھی کبھی معزول نہیں ہو سکتا۔سوال کرنے والے کہتے ہیں (اصل میں الفاظ پڑھے نہیں جار ہے۔ناقل ) لوگوں کی کثرت رائے سے ہی ایک شخص خلیفہ منتخب ہوتا ہے اور اسلامی تعلیم بھی یہی ہے کہ مومنوں کی کثرت رائے سے خلیفہ منتخب ہوتو پھر کیا وجہ ہے کہ اگر بعد میں لوگوں کی کثرت رائے کسی خلیفہ کے معزول کرنے پر متفق ہو جائے تو وہ اسے معزول کرنے کے حقدار نہ سمجھے جائیں؟ جو ہاتھ کسی چیز کو بناتا ہے وہ اسے توڑنے پر بھی قادر ہونا چاہئے اور پھر یہ بھی ایک مسلم حقیقت ہے کہ انسان کے حالات میں تبدیلی بھی ہوتی رہتی ہے۔ہوسکتا ہے کہ آج ایک شخص کو خلافت کا اہل سمجھ کر خلیفہ منتخب کیا جائے لیکن کچھ عرصہ کے بعد وہ کسی وجہ سے اس اہلیت کو کھو بیٹھے تو اس صورت میں مومنوں کی جماعت کو تبدیل شدہ حالات میں اپنے سابقہ فیصلہ کو بدلنے کا حق ہونا چاہئے۔یہ وہ سوال ہے جو منجملہ دوسرے سوالوں کے بعض لوگوں کے دل میں پیدا ہو رہا ہے اور گو وہ ایمانی رنگ میں یقین رکھتے ہیں کہ جس طرح حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور اس سے قبل حضرت خلیفہ اول بار بار وضاحت فرما چکے ہیں وہی صحیح اور درست ہے مگر وہ اپنے اطمینان قلب کے لئے اس حکم کی حکمت اور اس نظریہ کا فلسفہ جاننے کے متمنی ہیں کہ وہ زبان جو کسی خلیفہ کو منتخب کرنے میں کھلی رکھی گئی ہے وہ حالات کے تبدیل ہونے پر اس کے معزول کرنے کے سوال میں کیوں بندر ہے؟ اس سوال کا مختصر اور دو حرفی جواب تو اس قدر کافی ہے کہ یہ بات ہرگز درست نہیں کہ خلیفہ محض لوگوں کی رائے سے منتخب ہوتا ہے۔اگر حقیقت یہی ہوتی کہ لوگ خود خلیفہ بناتے ہیں۔تو پھر بیشک ایک حد تک سوال کرنے والوں کا یہ شبہ درست سمجھا جاسکتا تھا کہ جو ہاتھ ایک چیز کو بناتے ہیں۔وہ حسب ضرورت اسے تو ڑ بھی سکتے ہیں۔مگر جیسا کہ میں ابھی ثابت کروں گا۔حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔اور یہ دعوی کسی طرح صحیح ثابت نہیں ہوتا کہ خلافت حقہ ایک محض انسانی نظام ہے۔جو لوگوں کے ہاتھ سے وجود میں آتا ہے اور اس کا قیام ان کی خوشی اور مرضی پر موقوف ہے۔پس جبکہ یہ دعویٰ ہی باطل ہے۔تو اس دعویٰ کا وہ نتیجہ جو بعض خام خیال لوگ پیدا کرنا چاہتے ہیں کس طرح درست سمجھا جاسکتا ہے؟ حق یہ ہے کہ خلافت حقہ ایک نہایت عجیب و غریب روحانی نظام ہے۔جو خدا تعالیٰ کی خاص تقدیر اور