مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 28 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 28

مضامین بشیر جلد سوم 28 11 اسلامی خلافت کا نظریہ کوئی خلیفہ برحق معزول نہیں ہوسکتا ( عزل خلفاء کے مسئلہ پر حضرت میاں صاحب نے اپنے مندرجہ ذیل مقالہ میں جو روشنی ڈالی ہے وہ انہی کا حصہ ہے۔آپ نے سہل ممتنع انداز میں اس مسئلہ کو قرآن کریم، احادیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام ، خلیفہ اصیح اوّل اور حضرت خلیفہ اسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے حوالوں سے اچھی طرح واضح فرما دیا ہے۔اس کے متعلق دورا ئیں نہیں ہوسکتیں۔البتہ مضمون کے آخری حصہ میں جو آپ نے خلافت کی مدت کے مسئلہ کے متعلق فرمایا ہے وہ اتنا واضح نہیں ہے جتنا کہ چاہئے تھا۔اصل میں یہ ایک جدا گانہ مسئلہ ہے اور اس کا یہاں ذکر ضمناً آ گیا ہے۔ہمیں امید ہے کہ حضرت میاں صاحب اس مسئلہ پر مزید روشنی ڈالیں گے۔ایڈیٹر ) کچھ عرصہ ہوا حضرت خلیفہ اسی الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اخبار الرحمت لاہور کے ایک مضمون کی بناء پر الفضل میں یہ اعلان فرمایا تھا کہ اسلام اور احمدیت کی تعلیم کے مطابق کوئی خلیفہ معزول نہیں ہوسکتا۔یہ اعلان نہایت برمحل اور وقت کی ضرورت کے عین مطابق تھا۔کیونکہ بد قسمتی سے اس وقت بعض ایسے احمدی نوجوان بھی اس مسئلہ میں ٹھوکر کھا رہے تھے جنہوں نے ایک طرف تو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا اور نہ ہی حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خلافت کا ابتدائی زمانہ دیکھا ہے جبکہ یہ مسئلہ پوری طرح زیر بحث آکر قطعی طور پر حل ہو چکا تھا۔اور دوسری طرف وہ اس معاملہ میں قرآن وحدیث کی تعلیم اور خلفاء راشدین کے اقوال وحالات سے بھی اچھی طرح واقف نہیں اور چند سنی سنائی باتوں سے زیادہ علم نہیں رکھتے اور تیسری طرف وہ موجودہ زمانہ کے جمہوری ماحول سے غلط طور پر متاثر ہوکر خلیفہ کو بھی نعوذ باللہ ایک ایسا لیڈر سمجھنے لگ گئے ہیں جو لوگوں کے بنانے سے بنتا اور لوگوں کے گرانے سے گر سکتا ہے۔پس الْحَمْدُ لِلَّهِ کہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے اس اعلان نے وقت کی ایک نہایت اہم ضرورت کو پورا کیا ہے۔لیکن جیسا کہ ایسے معاملات میں قاعدہ ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ الہتعالی کے اس اعلان نے بعض دوستوں کے دل میں بعض ضمنی سوالات پیدا کر دیئے ہیں اور وہ اعتراض کے طور پر نہیں بلکہ لِيَطْمَئِنَّ قلبی کے اصول کے ماتحت ان سوالات کے متعلق اسلام اور احمدیت کی تعلیم اور تاریخی واقعات کی روشنی میں