مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 486 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 486

مضامین بشیر جلد سوم 486 گا۔حضرت مولوی شیر علی صاحب فرماتے ہیں کہ اُس وقت میں یہ سمجھا کہ یہ جو حضوڑ نے قادیان واپس نہ جانے کا ذکر کیا ہے یہ غالباً موجودہ پریشانی کی وجہ سے ہے اور مطلب یہ ہے کہ کچھ عرصہ کہیں اور گزار کر پھر قادیان جاؤں گا۔مگر اب میں سمجھتا ہوں کہ اس سے غالبا حضور کی مراد یہ تھی کہ میری وفات کا وقت آگیا ہے اور اب میرا قادیان جانا نہیں ہوگا۔وَاللهُ أَعْلَمُ۔حضرت منشی محمد اسمعیل صاحب سیالکوٹی بِسْم الله الرحمن الرحيم منشی محمداسمعیل صاحب سیالکوٹی نے ( جو حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے برادر نسبتی تھے ) مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت صاحب کا بچہ مبارک احمد فوت ہوا تو اس وقت میں اور محمد علی صاحب مسجد مبارک کے ساتھ والے کو ٹھے میں کھڑے تھے۔اس وقت اندرون خانہ سے آواز آئی جو دادی کی معلوم ہوتی تھی کہ ہائے او میر یا بچی اس پر حضرت صاحب نے دادی کو سختی کے ساتھ کہا کہ دیکھو وہ تمہارا بچہ نہیں تھا۔وہ خدا کا مال تھا۔جسے وہ لے گیا اور فرمایا۔یہ نظام الدین کا گھر نہیں ہے۔منشی صاحب کہتے ہیں کہ انہی دنوں میں مرزا نظام الدین کا ایک عزیز فوت ہوا تھا جس پر ان کے گھر میں دنیا داروں کے طریق پر بہت رونا دھونا ہوا تھا۔سو حضرت صاحب نے اس کی طرف اشارہ کیا تھا کہ میرے گھر میں یہ بات نہیں ہونی چاہئے۔اس وقت مولوی محمد علی صاحب نے مجھ سے کہا کہ کام بہت خراب ہو گیا ہے کیونکہ اس لڑکے کے متعلق حضرت صاحب کی بہت پیشگوئیاں تھیں اور اب لوگ ہمیں دم نہیں لینے دیں گے اور حضرت صاحب کو تو کسی نے پوچھنا نہیں۔لوگوں کا ہمارے ساتھ واسطہ پڑتا ہے۔مولوی صاحب یہ بات کر ہی رہے تھے کہ نیچے مسجد کی طرف سے ایک بلند آواز آئی جو نہ معلوم کس کی تھی کہ تریاق القلوب کا صفحہ چالیس نکال کر دیکھو۔مولوی صاحب یہ آواز سن کر گئے اور تریاق القلوب کا نسخہ لے آئے۔دیکھا تو اس کے چالیسویں صفحہ پر حضرت مسیح موعود نے مبارک احمد کے متعلق لکھا تھا کہ اس کے متعلق مجھے جو الہام ہوا ہے اس کا یہ مطلب ہے کہ یا تو یہ لڑکا بہت نیک اور دین میں ترقی کرنے والا ہوگا اور یا بچپن میں ہی فوت ہو جائے گا۔مولوی صاحب نے کہا۔خیر آب ہاتھ ڈالنے کی گنجائش نکل آئی ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ دادی سے مراد میاں شادی خاں صاحب مرحوم کی والدہ ہے جو مبارک احمد کی کھلائی تھی اور مبارک احمد اسے دادی کہا کرتا تھا۔اس پر اس کا نام ہی دادی مشہور ہو گیا۔بیچاری بہت مخلص اور خدمت گزار تھی۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے۔مبارک احمد 1907ء میں فوت ہوا تھا جبکہ اس کی عمر کچھ اوپر آٹھ سال کی تھی۔