مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 485 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 485

مضامین بشیر جلد سوم 485 حالت نہایت بے تکلفانہ ہوتی۔جس کو جس طرح آرام ہوتا بیٹھتا۔بعض پچھلی طرف لیٹ بھی جاتے مگر سب کے دل میں عظمت و ادب اور محبت ہوتی تھی۔چونکہ کوئی تکلف نہ ہوتا تھا اس لئے یہی جی چاہتا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تقریر فرماتے رہیں اور ہم میں موجود رہیں مگر عشاء کی اذان ہونے پر جلسہ برخاست ہو جاتا۔بِسْمِ الله الرحمن الرحیم۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میری دوسری بیوی کے انتقال پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بتوسل حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب راولپنڈی کے ایک تاجر صاحب کی سالی سے میرا رشتہ کرنا چاہا۔مجھے یہ رشتہ پسند نہ تھا کیونکہ مجھے ان کے اقرباء اچھے معلوم نہ ہوتے تھے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ رشتہ پسند تھا۔مگر اُن تاجر صاحب نے خود یہ بات اٹھائی کہ ان کی سالی بہنوئیوں سے پردہ نہ کرے گی اور سخت پردہ کی پابند نہ ہوگی۔( میرے متعلق کہا کہ ) سنا جاتا ہے کہ نواب صاحب پردہ میں سختی کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام میرے پاس میرے مکان پر خود تشریف لائے اور فرمایا کہ وہ یہ کہتے ہیں۔میں نے عرض کی کہ قرآن شریف میں جو فہرست دی گئی ہے میں اس سے تجاوز نہیں چاہتا۔آپ خاموش ہو گئے اور پھر اس رشتہ کے متعلق کچھ نہیں فرمایا اور وہ تاجر صاحب بھی چلے گئے۔حضرت مولوی شیر علی صاحب رضی اللہ عنہ بسم الله الرحمن الرحیم۔حضرت مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام آخری دفعہ لاہور تشریف لے گئے تو آپ نے اسی دوران میں لاہور سے خط لکھ کر مولوی محمد علی صاحب کو ایک دن کے لئے لاہور بلایا اور ان کے ساتھ میں بھی لاہور چلا گیا۔جب مولوی صاحب حضرت صاحب کو ملنے گئے تو حضور انہیں اس برآمدہ میں ملے جو ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ کے مکان کا برآمدہ جانب سڑک تھا۔میں یہ خیال کر کے کہ شاید حضرت صاحب نے کوئی بات علیحدگی میں کرنی ہو ایک طرف کو ہٹنے لگا جس پر حضوڑ نے مجھے فرمایا۔آپ بھی آجائیں۔چنانچہ میں بھی حضور کے پاس بیٹھ گیا اس پر حضوڑ نے مولوی صاحب سے لنگر کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا ذکر کیا اور فرمایا کہ میں اس کی وجہ سے فکرمند ہوں کہ لنگر کی آمد کم ہے اور خرچ زیادہ اور مہمانوں کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہے اور ان حالات کو دیکھ کر میری روح کو صدمہ پہنچتا ہے۔اس ملاقات میں حضور نے مولوی صاحب سے یہ بھی فرمایا کہ میں لاہور میں یہ مہینہ ٹھہروں گا۔یہاں ان دوستوں نے خرچ اٹھایا ہوا ہے۔اس کے بعد میں کہیں اور چلا جاؤں گا اور قادیان نہیں جاؤں