مضامین بشیر (جلد 3) — Page 484
مضامین بشیر جلد سوم کے لئے قادیان میں آکر مل جاؤ۔والسلام حجتہ اللہ حضرت نواب محمد علی خان صاحب رضی اللہ عنہ خاکسار مرزا غلام احمد 11 اپریل 1905ء 484 بسم الله الرحمن الرحيم - حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میری نظر سے پہلے موٹی قلم سے لکھا ہوا اشتہار بابت براہین احمدیہ 1885ء میں گزرا مگر کوئی التفات پیدا نہ ہوا۔88-1887ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا شہرہ سنتا رہا۔1890ء میں مولوی عبداللہ صاحب فخری کی تحریک پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دعا کی استدعا کی۔اس طرح خط و کتابت کا سلسلہ شروع ہوا۔غالباً ستمبر 1890 ء میں میں بمقام لدھیانہ حضرت صاحب سے ملا اور چند معمولی باتیں ہوئیں۔وہاں سے واپسی پر میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو لکھا کہ میں تفضیلی شیعہ ہوں یعنی حضرت علی کو دوسرے خلفاء پر فضیلت دیتا ہوں۔کیا آپ ایسی حالت میں میری بیعت لے سکتے ہیں یا نہیں۔آپ نے لکھا کہ ہاں ایسی حالت میں آپ بیعت کر سکتے ہیں۔باقی اگر ہم ان خدمات کی قدر نہ کریں جو خلفاء راشدین نے کیں تو ہمیں یہ بھی معلوم نہیں ہوسکتا کہ یہ قرآن وہی قرآن ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔کیونکہ انہی کے ذریعہ قرآن و اسلام ، حدیث و اعمال ہم تک پہنچتے ہیں۔چنانچہ میں نے غالباً ستمبر یا اکتوبر 1890 ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کرلی اور بعد بیعت تین سال تک شیعہ کہلا تا رہا۔بسم الله الرحمن الرحیم۔حضرت نواب محمد علی خان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ پہلی دفعہ غالباً فروری 1892ء میں میں قادیان آیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سادگی نے مجھ پر خاص اثر کیا۔دسمبر 1892 ء میں پہلے جلسہ میں شریک ہوا۔ایک دفعہ میں نے حضرت صاحب سے علیحدہ بات کرنی چاہی۔گو بہت تنہائی نہ تھی مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پریشان پایا۔یعنی آپ کو علیحدگی میں اور خفیہ طور سے بات کرنی پسند نہ تھی۔آپ کی خلوت اور جلوت میں ایک ہی بات ہوتی تھی۔اسی جلسہ 1892 ء میں حضرت بعد نماز مغرب میرے مکان پر ہی تشریف لے آتے تھے اور مختلف امور پر تقریر ہوتی رہتی تھی۔احباب وہاں جمع ہو جاتے تھے اور کھانا بھی وہاں ہی کھاتے تھے۔نماز عشاء تک یہ سلسلہ جاری رہتا تھا۔میں علماء اور بزرگانِ خاندان کے سامنے دوزانو بیٹھنے کا عادی تھا بسا اوقات گھٹنے دُکھنے لگتے۔مگر یہاں مجلس کی