مضامین بشیر (جلد 3) — Page 27
مضامین بشیر جلد سوم 27 بر اعمل کرتا ہے تو ایسے شخص کو صرف اس کی بدی کے برابر گرفت کی جاتی ہے۔۔۔۔اور باوجود اس کے خدا اپنے بندوں کے بہت سے گناہ معاف بھی کر دیتا ہے۔اس نہایت درجہ رحیمانہ اور فیاضانہ قانون کے ہوتے ہوئے کون کہہ سکتا ہے کہ انسان کے اچھے اور بُرے اعمال کے نتائج ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔لاریب حق یہی ہے کہ ہرا چھی تقدیر یعنی ہر اچھے عمل کا نتیجہ خدا کی نعمت ہے۔اور ہر تلخ تقدیر انسان کے اپنے ہی اعمال کا گندا پھل ہے۔جس سے وہ خدا کے رحیمانہ قانون اور بے شمار چشم پوشیوں اور معافیوں کے باوجود نہیں بچ سکا۔پس میں نے اس دوست کے جواب میں شرح صدر کے ساتھ کہا اور شرح صدر کے ساتھ کہتا ہوں کہ میں بفضلہ تعالیٰ اپنے خدا کی ہر تقدیر پر راضی ہوں۔تکلیفیں اور پریشانیاں بے شک آتی ہیں اور بعض اوقات کافی سختی سے آتی ہیں۔لیکن ہر تقدیر کو شرح صدر کے ساتھ قبول کرنے میں ہی انسان کے لئے برکت اور سعادت ہے۔کیونکہ ایک تو تمام تقدیروں کو نافذ کرنے والا ہمارا اپنا خالق و مالک خدا ہے۔جس کے لاتعداد انعاموں کے نیچے ہماری گردنیں دبی ہوئی ہیں۔اور دوسرے ہماری سب تکلیفیں بالواسطہ یا بلا واسطہ ہماری اپنی ہی کمزوریوں اور کوتاہیوں کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ورنہ خدا تو اپنے بندوں کے لئے سراسر رحمت اور سراسر شفقت اور سراسر محبت ہے۔اور اس کی ظاہر میں نظر آنے والی گرفت بھی دراصل رحمت ہی کی دوسری صورت اور رحمت ہی کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ۔ہر بلا کیں قوم را حق داده اند زیر آن گنج کرم بنهاده اند پس میں اپنے دوستوں اور عزیزوں سے کہوں گا کہ وہ کسی حال میں بھی خدا کا دامن نہ چھوڑیں کہ اسے چھوڑ کر ہمارے لئے کوئی پناہ کی جگہ نہیں۔ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا لطیف دعا سکھائی ہے کہ اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ إِلَيْكَ وَ وَجَهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ وَ فَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ وَالْجَاتُ ظَهْرِى إِلَيْكَ رَغْبَةٌ وَرَهْبَةً إِلَيْكَ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ وَآمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَ نَبَيّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ( محرره 7 نومبر 1951ء) روزنامه الفضل لاہور 13 نومبر 1951ء)