مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 466 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 466

مضامین بشیر جلد سوم 466 تبلیغی اور تربیتی مہم کو اس کے منشاء کے مطابق چلا کر الْاِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ (صحیح بخاری کتاب الجهاد والسير باب يقاتل من وراء الامام و یتقی بہ ) یعنی امام ایک ڈھال کا حکم رکھتا ہے اور مومنوں کو اس ڈھال کے پیچھے ہو کر لڑنا چاہئے ، کے ارشاد نبوی کی اس طرح اقتدا کریں کہ گویا وہ ایک بنیان مرصوص ہیں۔وہ اپنے ارضی مرکز کی طرف اس طرح نگاہ رکھیں اور اس کی ہدایات کی طرف اس طرح دیکھیں کہ حَيْثُ مَا كُنتُم فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ (البقرہ: 145) کا رنگ پیدا ہو جائے۔اور یا درکھنا چاہئے کہ اسلامی عبادات ( نماز ، حج وغیرہ) کا اصل اور دائمی مرکز تو بہر حال مکہ مکرمہ ہے اور ہر بچے احمدی کے دل میں حج بجالانے اور مقامات مقدسہ کی زیارت کرنے کی تڑپ ہونی چاہئے۔مگر اس زمانہ میں جماعت احمدیہ کی طرف سے تبلیغی اور تربیتی مہم کو چلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے قادیان اور ربوہ کو مرکز مقرر کیا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانیہ کا صدر مقام ہے۔پس ہر احمدی کا فرض ہے کہ اپنے اس مرکز کی طرف بار بار رجوع کر کے اپنے اندرنئی زندگی کی روح پیدا کرتا رہے۔جس کا سب سے زیادہ دلکش اور مؤثر نظارہ ہمارا جلسہ سالا نہ پیش کرتا ہے۔جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریک کے مطابق ہر احمدی کو اپنا حرج کر کے بھی پہنچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔پھر ہر احمدی کا فرض ہے کہ اپنے نظریاتی مرکز یعنی عقائد صحیحہ کے ساتھ بھی اس طرح چمٹا ر ہے کہ اس میں کبھی کوئی رخنہ نہ پیدا ہو۔اور ہر احمدی اسلام اور احمدیت کی تعلیم کا مجسمہ بننے کی کوشش کرے۔جن کے لئے قرآن وحدیث کے مطالعہ کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات کے مجموعہ تذکرہ اور حضور کی تالیفات اور خلفائے احمدیت کی تصنیفات کو ہمیشہ مد نظر رکھنا از بس ضروری ہے۔تا کہ ذاتی خیالات اور وقتی رجحانات عقائد صحیحہ کے مصفی صیقل کو زنگ آلود نہ کر سکیں۔صحیح عقائد جنہیں دوسرے رنگ میں ایمان کا نام دیا جاتا ہے وہ زبر دست حبل اللہ ہیں۔جن سے چنگل مارنے والا انسان کبھی سیدھے راستے سے بھٹک نہیں سکتا۔اور بالآخر ہر احمدی کا فرض ہے کہ وہ جماعت کے چوتھے مرکز یعنی جماعتی تنظیم پر بھی انتہائی مضبوطی کے ساتھ قائم ہو۔اور اس کی لڑی میں اس طرح پر ویار ہے جس طرح ایک عمدہ تسبیح کے دانے ایک دوسرے کے ساتھ پر وئے رہتے ہیں۔مگر یادر ہے کہ جماعتی تنظیم وہ چیز ہے جس میں بعض اوقات میٹھی قاشوں کے ساتھ تلخ قاشیں بھی کھانی پڑتی ہیں۔کیونکہ اس کے بغیر ایک وسیع جماعت کو اتحاد اور عمل صالح کے مقام پر قائم نہیں رکھا جا سکتا۔اور اس تعلق میں یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ جماعتی تنظیم کے تعلق میں امیر یا امام سے بعض اوقات بشری اثرات کے ماتحت اجتہادی غلطی بھی ہو سکتی ہے۔جیسا کہ خود حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی