مضامین بشیر (جلد 3) — Page 467
مضامین بشیر جلد سوم 467 اپنے متعلق اس امکان کو تسلیم کیا ہے مگر پھر بھی امیر کی اطاعت کو واجبی قرار دیا ہے۔پس ہر مخلص احمدی کا فرض ہے کہ وہ ہر قربانی کو قبول کر کے جماعتی تنظیم کے دامن کے ساتھ وابستہ رہے۔کیونکہ اس کے بغیر کوئی جماعتی تنظیم قائم نہیں رہ سکتی اور قومی اتحاد پارہ پارہ ہو جاتا ہے۔بس اس وقت الفضل کے جلسہ سالانہ نمبر میں یہی مختصر سے الفاظ احباب کرام کی خدمت میں پیش کرنے پر اکتفا کرتا ہوں۔کیونکہ: اگر در خانه کس است حرفی بس است آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو جو اس وقت جماعت احمدیہ کے ساتھ وابستہ ہیں۔اور ہماری نسلوں کو اور پھر نسلوں کی نسلوں کو قیامت تک اسلام اور احمدیت کے نور سے منور رکھے۔اور ہمیں ان چار انسانی اور ارضی اور نظریاتی اور تنظیمی مرکزوں کے ساتھ اخلاص اور محبت اور اطاعت کی تاروں کے ساتھ باندھے رکھے جو اس نے اپنی ازلی حکمت کے ماتحت جماعت کی بقا اور ترقی کے لئے پیدا کئے ہیں۔اور ہمارا انجام بہتر ہو، نیز آنے والے دنوں کے خطرات میں بھی خدا جماعت کا حافظ و ناصر ہو۔امِينَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ وَاخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ - ( محرره 5 دسمبر 1957 ء) روزنامه الفضل ربوہ 24 دسمبر 1957ء)