مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 465 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 465

مضامین بشیر جلد سوم 465 اسے سب مل کر مضبوطی کے ساتھ پکڑے رکھو۔اور حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مَنْ شَدَّ شُدَّ فِی النَّار یعنی جو شخص جماعتی مرکز سے کٹ کر اپنے لئے علیحدہ رستہ اختیار کرتا ہے وہ آگ میں ڈالا جائے گا۔پس ضروری ہے کہ ہماری جماعت ہمیشہ اپنی مرکزیت کو قائم رکھے۔اور قرآن مجید اور احادیث اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مطالعہ سے پتہ لگتا ہے کہ اسلام یا دوسرے لفظوں میں احمدیت کے لئے مرکزیت کے چار بڑے ستون مقرر ہیں اور یہ چار ستون حسب ذیل ہیں۔(1) اول امام یعنی خلیفہ وقت کا وجود جس کے ہاتھ پر سب مومن اتحاد اور جہاد فی سبیل اللہ کا عہد باندھتے اور اس کی قیادت کو قبول کرتے ہیں۔یہ خلافت وہی ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الوصیت میں قدرت ثانیہ کے نام سے یاد کیا ہے۔(2) دوم ایک ارضی مرکز کا وجود یعنی ایک ایسا صدر مقام جو اپنے تقدس یا مقام خلافت ہونے کی وجہ سے مومنوں کی توجہ کو ایک نقطہ پر جمع رکھتا ہے اور ان کے لئے جماعتی ہدایات کا منبع بنتا ہے۔(3) سوم عقائد صحیحہ یعنی نظریاتی مرکز کا وجود جو گویا ایک مضبوط رشتی کے طور پر سارے مومنوں کو ایک نقطہ پر جمع رکھ کر اور آپس میں بھائی بھائی بنا کر ایک دوسرے کے ساتھ باندھے رکھتا ہے۔(4) چهارم جماعتی تنظیم جو جماعت کو صحیح اعمال پر قائم رکھتی اور جماعت کے افراد کو انتشار - بچاتی اور جماعتی ذمہ داریوں کے احساس کو زندہ رکھتی ہے۔میری طبیعت آج کل پھر کسی قدر اعصابی تکلیف کی وجہ سے علیل ہے اور کچھ نقرس اور کبھی کبھی سانس کی تکلیف بھی ہو جاتی ہے۔ورنہ میں اسلامی تعلیم کی روشنی میں ان چاروں مرکزوں کی تشریح اور تفصیل بیان کر کے دوستوں کو ان کی اہمیت بتا تا۔اور اس بات کی وضاحت بھی کرتا کہ ان میں سے ہر مرکز کس کس طرح جماعت کی روحانی اور اخلاقی اور علمی اور عملی اصلاح اور ترقی میں اثر انداز ہوتا ہے۔لیکن اس وقت میں صرف ان مراکز اربعہ کے مجمل ذکر پر ہی اکتفا کرتا ہوا دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ان چاروں مرکزوں کے ساتھ اپنا رشتہ اس طرح جوڑیں کہ وہ کبھی ٹوٹنے کا نام نہ لے۔اور نہ صرف خودان مرکزوں کے ساتھ اپنا پیوند مضبوط کریں بلکہ اپنی اولادوں کے دل میں بھی اس خیال کو پختہ اور راسخ کر دیں کہ جماعت احمدیہ کی عالمگیر ترقی اور غلبہ انہی چار مرکزوں کے دائمی پیوند کے ساتھ مقدر ہے۔وہ اپنے امام یعنی خلیفہ وقت کی محبت اور اس کی اطاعت اور وفاداری کا اعلیٰ نمونہ قائم کریں۔اور اپنی ہر