مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 462 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 462

مضامین بشیر جلد سوم شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کی وفات احمدیت کا ایک بہادر سپاہی 462 کل صبح سکندر آبادانڈیا کی طرف سے آئی ہوئی تار سے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کی وفات کا علم ہو کر بے حد صدمہ ہوا۔یہ تار محترمی سیٹھ عبد اللہ بھائی صاحب کی طرف سے آئی تھی۔اور اس میں یہ ذکر تھا کہ عرفانی صاحب جمعرات کی صبح کو انتقال فرما گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔(الفضل میں جو جمعہ کا دن لکھا ہے وہ درست نہیں ہے ) عرفانی صاحب اوائل میں تراب لقب استعمال کیا کرتے تھے۔غالبا اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زندہ صحابہ میں سب سے پرانے صحابی تھے۔اور گو وہ ایک لمبے عرصہ سے بیمار تھے مگر یہ خیال نہیں تھا کہ وہ اتنی جلدی داغ جدائی دے جائیں گے۔چنانچہ ان کی وفات والی تار سے صرف ایک دن پہلے ہی مجھے ان کا اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا خط ملا تھا۔شیخ صاحب موصوف کی عمر وفات کے وقت غالبانوے سال سے اوپر تھی۔اور گوان کی سماعت میں کافی فرق آگیا تھا مگر بینائی ٹھیک تھی۔چنانچہ وہ ہمیشہ اپنے ہاتھ سے خط لکھا کرتے تھے اور ان کے خطوں میں بے حد محبت اور اپنائیت کا رنگ پایا جاتا تھا۔دراصل وہ ان بزرگوں میں سے تھے جن کے ایمان کی جڑ ان کے دل میں ہوتی ہے اور فلسفیانہ دلائل کی نسبت جذبات کا پہلو زیادہ غالب ہوتا ہے۔شیخ صاحب مرحوم سب سے پہلے احمدی تھے جنہوں نے سلسلہ عالیہ احمدیہ کی خدمت کی غرض سے اخبار الحکم جاری کیا۔یہ اخبار شروع میں غالباً امرتسر سے جاری ہوا تھا مگر بہت جلد قادیان منتقل ہو گیا اور پھر شیخ صاحب خود بھی ہمیشہ کے لئے قادیان کے ہی ہو گئے۔اس کے کچھ عرصہ بعد اخبار بدر بھی جاری ہو گیا۔جس کے آخری ایڈیٹر حضرت مفتی محمد صادق صاحب مرحوم تھے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان دو اخباروں کو اپنے دو بازو کہہ کر یا د فرمایا کرتے تھے۔شیخ عرفانی صاحب مرحوم کی دوسری بڑی خصوصیت یہ تھی کہ سب سے پہلے انہی کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سوانح اور سلسلہ احمدیہ کی تاریخ مرتب کرنے کا خیال پیدا ہوا۔چنانچہ ان کی طرف سے اس سلسلہ میں متعدد نمبر نکل چکے ہیں۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خطوط کو جمع کر کے مکتوبات احمدیہ کے نام سے شائع کرنے کی سعادت بھی شیخ صاحب مرحوم کو ہی حاصل ہوئی۔تاریخ بیعت کے لحاظ سے شیخ صاحب