مضامین بشیر (جلد 3) — Page 455
مضامین بشیر جلد سوم 455 سکا۔اور جو کچھ اس مضمون میں لکھا ہے وہ بھی دراصل بستر پر لیٹے لیٹے ایک دوسرے شخص کو املاء کرایا ہے۔مگر امید ہے کہ پاک نیت اور سمجھدار اصحاب کے لئے اسی قد رلکھنا کافی ہوگا۔دوسرا نوٹ میں یہ مضمون ختم کر چکا تھا کہ مجھے بتایا گیا کہ ہمارے بعض مخالفوں نے محض جماعتی تادیب کرنے کو ہی خلاف قانون اور ریاست اندر ریاست کا مصداق قرار دیا ہے۔اس پر إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے۔کیا ماں باپ اپنے بچوں کو سز انہیں دیتے ؟ پھر کیا ایک ہیڈ ماسٹر اپنے طالب علموں کو سز انہیں دیتا؟ اور پھر کیا ایک دفتر کا افسر اپنے عملہ کو سز انہیں دیتا؟ اور کیا ایک تجارتی کمپنی کا ہیڈ اپنے ماتحتوں کو سزا نہیں دیتا؟ اور کیا سیاسی پارٹیاں اپنے ممبروں کو سزا نہیں دیتیں ؟ بلکہ میں کہتا ہوں کہ کیا بعض پیچ کہلانے والی قوموں تک اپنے افراد کو قبائلی جرموں پر مقاطعہ وغیرہ کی سزا نہیں دیتیں؟ وغیرہ وغیرہ۔جب یہ سب سزا ئیں جائز اور پُر امن سمجھی جاتی ہیں اور کوئی عقل مند انسان بلکہ کوئی مہذب حکومت تک انہیں ناجائز یا ریاست اندر ریاست کا مصداق قرار نہیں دیتی تو پھر جماعت احمدیہ کی تادیبی کارروائیوں پر کیوں اعتراض کیا جاتا ہے؟ دراصل جو بات ان معاملات میں دیکھنے والی ہے وہ صرف یہ ہے کہ کیا کوئی سزا قانون رائج الوقت یا شریعت اسلامی کے خلاف تو نہیں ؟ اگر وہ قانون اور شریعت کے خلاف نہ ہو تو ہر جماعتی یا خاندانی یا ادارتی تنظیم ہر تادیبی سزا کو اپنے نظام میں شامل کرنے اور اسے اختیار کرنے کا حق رکھتی ہے۔اور جو شخص ایسی تادیب کو برداشت نہیں کر سکتا اس کے لئے ہر وقت الگ ہونے کا رستہ کھلا ہے۔کاش ہمارے وطنی بھائی ان حقائق پر غور کریں !!! وَاخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (محررہ 5 جولائی 1957ء) روزنامه الفضل ربوہ 9 جولائی 1957ء) 20 حضرت بھائی چوہدری عبدالرحیم صاحب مرحوم صف اول کے رشتوں کو بھرنے کے لئے صف دوم کو آگے آنا چاہئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت بھائی چوہدری عبدالرحیم صاحب کی وفات کی اطلاع الفضل