مضامین بشیر (جلد 3) — Page 451
مضامین بشیر جلد سوم 451 جن میں میرے علاوہ ھلال بن امیہ بھی شامل تھے کلام سلام بند کر دیں۔اس پر سب مسلمان ہم سے کنارہ کش ہو گئے۔اور وہ ہم سے ایسے بدل گئے کہ گویا ہمارے لئے دنیا ہی بدل گئی۔اور ہم نے اس حالت میں پچاس راتیں گزار دیں۔ان ایام میں ابوقتادہ جو میرے چچازاد بھائی تھے اور مجھے ان سے بہت محبت تھی۔۔۔وہ ایک دفعہ میرے سامنے آئے تو میں نے انہیں سلام کہا۔مگر خدا کی قسم انہوں نے بھی رسول اللہ کے حکم کے مطابق میرے سلام کا جواب نہیں دیا ( اور خود رسول اللہ بھی جواب نہیں دیتے تھے ) جب اس حالت پر چالیس راتیں گزر گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پیغامبر میرے پاس آیا اور انہوں نے مجھے آکر کہا کہ رسول اللہ حکم دیتے ہیں کہ تم اپنی بیوی سے بھی الگ ہو جاؤ۔میں نے کہا میں اسے طلاق دے دوں ؟ اس نے کہا رسول اللہ نے طلاق کے متعلق تو نہیں فرمایا بلکہ صرف یہ حکم دیا ہے کہ تم اپنی بیوی سے الگ رہو اور اس کے قریب نہ جاؤ۔جس پر میں نے اپنی بیوی سے کہا تم اپنے ماں باپ کے گھر چلی جاؤ۔تا وقتیکہ کہ اللہ تعالیٰ اس معاملہ میں کوئی فیصلہ فرمائے۔میرے ساتھی ھلال بن امیہ کی طرف بھی اسی قسم کا حکم گیا تھا۔جس پر اس کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ! میرا خاوند ھلال بن امیہ بوڑھا اور ضعیف انسان ہے اور اس کے پاس کوئی خادم بھی نہیں ہے جو اس کی خدمت کر سکے۔تو کیا آپ کا یہ حکم ہے کہ میں اس کی خدمت سے بھی کنارہ کش ہو جاؤں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں نہیں ، میرا یہ منشاء نہیں بلکہ میرا حکم صرف یہ ہے کہ وہ تمہارے قریب نہ آئے اور تم اس سے کلام سلام بند کر دو۔اس شرط کے ساتھ تم اس کی ضروری خدمت بجالا سکتی ہو۔( بخاری، حدیث کعب بن مالک) اس لطیف حدیث سے جو قرآن مجید کے بعد مسلمہ طور پر مسلمانوں کی صحیح ترین کتاب بخاری میں بیان ہوئی ہے جزوی مقاطعہ اور مکمل سوشل بائیکاٹ کی حدود و شروط پر بڑی لطیف روشنی پڑتی ہے۔اور یہ بات قطعی طور پر ثابت ہو جاتی ہے کہ جہاں جماعتی تنظیم کو توڑنے اور کسی قسم کی غفلت اور جرم کے ارتکاب پر امام کی طرف سے کسی شخص کو مقاطعہ کی سزا دی جاسکتی ہے۔وہاں یہ بات بھی ثابت ہے کہ یہ مقاطعہ صرف جزوی اور محدود تم کا مقاطعہ ہونا چاہئے۔جس میں حقیقی سوشل بائیکاٹ کا رنگ نہ پایا جائے۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ فلاں فلاں صحابی سے کلام سلام بند کر دیں۔یہاں تک کہ ان کی بیویوں کو بھی ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے خاوندوں سے الگ رہیں۔وہاں جس امر میں انسانیت کے بنیادی حقوق اور ضروری سوشل خدمت کا سوال پیدا ہوتا تھا وہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کی خدمت سے منع نہیں فرمایا بلکہ اس کی اجازت دی۔چنانچہ آپ نے ھلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کی