مضامین بشیر (جلد 3) — Page 443
مضامین بشیر جلد سوم 443 کی ذات کے متعلق نہایت گندے حملے کئے ہیں۔اور ایسے الزام لگائے ہیں جن کی آپ کو شریعت اسلامی اور شرافت انسانی اور عقل خدا داد کسی صورت میں اجازت نہیں دیتی۔اختلاف عقائد کا معاملہ جدا گانہ ہے مگر آپ کی سنجیدہ مزاجی اور عام سمجھ بوجھ کے متعلق یہ خاکسار فی الجملہ اچھی رائے رکھتا تھا۔لیکن آپ کے اس مضمون سے یہ نتیجہ نکالنے پر مجبور ہوں کہ آپ بھی اس قسم کی عامیانہ اور غیر شریفانہ اور غیرمومنانہ رو میں بہہ سکتے ہیں۔فَإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں نے یہ الزام خود نہیں لگائے بلکہ بعض دوسرے لوگوں کے لگائے ہوئے الزاموں کا ذکر کیا ہے۔لیکن کاش آپ اس قرآنی آیت کو یاد کر لیتے کہ تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ وَتَقُولُونَ بأَفْوَاهِكُم مَّا لَيْسَ لَكُمُ بِهِ عِلْمٌ وَ تَحْسَبُونَهُ هَيِّنًا وَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمٌ اور اس حدیث کو بھی فراموش نہ کرتے کہ كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِباً أَن يُحَدِثَ بِكُلِّ مَا سَمِع۔پس غور کریں اور غور کریں اور غور کریں اور خدا سے ڈریں۔وما علینا الا البلاغ۔خاکسار مرزا بشیر احمد ربوہ 15 اپریل 1957 ء جوابی خط ڈاکٹر غلام محمد صاحب بنام خاکسار مرزا بشیر احمد مکرم میاں صاحب! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ آپ کا 15 اپریل کا رجسٹر ڈ زجر نامہ ملا۔آپ جیسے دھیمے اور فہیم انسان سے مجھے توقع نہ تھی کہ بغیر استفسار کے میرے متعلق اپنی 50 سالہ رائے اس قدر جلد تبدیل کرلیں گے۔خطابات عنایت کردہ کا مشکور ہوں۔معلوم ہوتا ہے کہ میری تحریر سے آپ کو اشتعال آگیا اور آپ کی قلم بے قابو ہوگئی۔مجھے ابتداء سے آپ سے اُنس ہے اور آپ جانتے ہیں میں آزاد طبع ہوں۔تکلف و تصنع میری طبیعت میں نہیں اور شرافت کو کبھی میں نے اپنے ہاتھ سے نہیں دیا۔آپ کو اعتراف ہے کہ میں نے یہ الزام خود نہیں لگائے پھر عتاب کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔آپ کو یہ امربھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ میاں محمود احمد صاحب کی پوزیشن بوجہ ان کے دعاوی کے ایک Public man کی ہے۔اور ہر ایک شخص کو حق حاصل ہے کہ ان پر تنقید کرے اور ان کو پر کھے۔اور ان کا فرض ہے کہ وہ اپنی پوزیشن صاف کریں۔میں نے تو ان کے لئے ایک ایسی راہ تجویز کی ہے جس سے آئندہ کے لئے ان پر الزام تراشی کا سد باب ہو جائے۔اور ایک راستباز اور معصوم انسان کو اس کے