مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 442 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 442

مضامین بشیر جلد سوم 442 ڈاکٹر صاحب موصوف نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خلاف نہایت درجہ گندے ذاتی الزامات عائد کئے تھے۔چونکہ ڈاکٹر صاحب موصوف کے ساتھ میرے قادیان کے زمانہ کے بلکہ ان کے اور اپنے طالب علمی کے زمانہ کے تعلقات تھے۔اور میں عقائد کے اختلاف کے باوجود ڈاکٹر صاحب کے متعلق یہ حسن ظن رکھتا تھا کہ وہ ایک سنجیدہ مزاج اور شریف انسان ہیں۔میں نے انہیں اس مضمون کے آخری حصے کے متعلق ایک رجسٹرڈ خط لکھ کر ان کے غیر شریفانہ اور خلاف تعلیم اسلام روش کے متعلق توجہ دلائی۔مجھے امید تھی کہ وہ میری اس نصیحت سے فائدہ اٹھائیں گے لیکن میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب میرے اس خط کے جواب میں ان کا ایک ایسا خط آیا جس میں نہ صرف اپنی سابقہ باتوں پر نا واجب ضد اختیار کی گئی تھی بلکہ بعض مزید ناگوار اور غیر شریفانہ باتیں بھی درج تھیں۔اس پر میں نے ایک دوسرا رجسٹرڈ (Registered) خط لکھا اور ان پر اس معاملے میں اتمام حجت کرنے کی کوشش کی۔میں نہیں جانتا کہ میرے اس دوسرے خط کا ان پر کیا اثر ہوا لیکن چونکہ دو ہفتے گزر جانے کے باوجود ابھی تک ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا اس لئے میں اس خط و کتابت کی نقل الفضل میں بھجوا رہا ہوں۔تا ہمارے دوستوں کو یہ علم ہو کہ غیر مبائعین میں سے نسبتاً سنجیدہ طبقہ بھی حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی مخالفت میں کس قدر بڑھا ہوا ہے کہ قرآن وحدیث کے صریح ارشادات کی بھی پروا نہیں رہی۔کاش یہ لوگ اب بھی سمجھیں اور اپنی عاقبت کو خراب نہ کریں۔ورنہ جیسا کہ میں خط میں بھی لکھ چکا ہوں۔وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ وَ سَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوْا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُوْنَ۔خاکسار مرزا بشیر احمد ربوہ 21 مئی 1957ء پہلا خط خاکسار مرزا بشیر احمد بنام ڈاکٹر غلام محمد صاحب مکرمی ڈاکٹر صاحب! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ اخبار پیغام صلح تاریخ 27 مارچ 1957ء نظر سے گزرا۔اس میں آپ کا ایک مضمون زیر عنوان ” خطاب بہ اہل ربوہ چھپا ہے۔اس مضمون کے آخری حصہ میں آپ نے حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز