مضامین بشیر (جلد 3) — Page 438
مضامین بشیر جلد سوم 14 رمضان کا آخری عشرہ اور لیلۃ القدر 438 حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ رمضان کے مہینہ میں ایک رات ایسی آتی ہے جس میں خدا تعالیٰ اپنے بندوں کے بہت زیادہ قریب ہو جاتا ہے۔اور ان کی دعاؤں کو خاص طور پر قبول فرماتا ہے۔اور اس مبارک رات کے دوران روحانیت کا اتنا انتشار ہوتا ہے کہ گویا زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی فضا خدا کی عظیم الشان رحمت اور اس کی غیر معمولی مغفرت سے بھر جاتے ہیں۔اس رات کا نام لیلۃ القدر ہے چنانچہ اس کے متعلق خدا تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرِه تَنَزَّلُ الْمَلئِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ ۚ مِنْ أَمْرِه سَلْمٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِه (القدر: 4-6) یعنی لیلۃ القدر خدائی نعمتوں کے لحاظ سے ہزار سال سے بھی بہتر ہوتی ہے۔اس رات کے دوران میں خدائی رحمت کے فرشتے اور روحانی زندگی کے فیوض بڑی کثرت کے ساتھ زمین پر نازل ہوتے ہیں۔یہ مقدس رات گویا مجسم سلامتی ہے۔جس کی برکات کا انتشار صبح صادق تک رہتا ہے۔حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس رات کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔اور چونکہ قمری حساب سے رات دن سے پہلے آتی ہے اس لئے آخری عشرہ کی طاق راتوں سے 23،21، 25، 27 ، 29 رمضان سے پہلی راتیں مراد ہیں۔اور بعض حدیثوں میں آخری عشرہ کی بجائے آخری ہفتہ کا بھی ذکر آتا ہے یعنی رمضان کی آخری سات راتیں۔پس دوستوں کو چاہئے کہ ان راتوں کو خصوصیت کے ساتھ نوافل اور عبادت اور ذکر الہی میں گزاریں اور درود شریف پر بھی بہت زور دیں۔د آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ : شَدَّ مِثْزَرَهُ وَ أَحْيِي لَيْلَهُ وَأَيْقَضَ أَهْلَهُ ( صحیح بخاری کتاب الصوم ) یعنی جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاص عبادت کے لئے اپنی کمرکس لیتے تھے۔اور اپنی راتوں کو مخصوص روحانی رنگ سے معمور کر دیتے تھے۔اور اپنے اہل خانہ کو بھی دعاؤں اور نوافل کے لئے جگاتے تھے۔یہ سوال کہ لیلتہ القدر کی علامت کیا ہے؟ اس کے متعلق یا درکھنا چاہئے کہ اس رات کی حقیقی علامت تو روحانی حسن سے تعلق رکھتی ہے جس کا مقام مومن کا دل ہے جو انوار الہی کا مورد بنتا ہے۔لیکن ایک حدیث