مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 436 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 436

مضامین بشیر جلد سوم 436 ایمان کی سلامتی امید اور خوف کے بین بین رہنے میں مضمر ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مندرجہ بالاتحریر کے آخر میں جو یہ الفاظ آتے ہیں کہ خدا سب کا حاکم ہے۔وہ چاہے تو فرشتوں کو بھی حکم کر سکتا ہے کہ تمہارے گناہ نہ لکھے جائیں۔ان کا منشاء ہرگز یہ نہیں کہ انسان کو گناہ پر دلیر کیا جائے بلکہ یہ الفاظ گنہگار انسانوں کو مایوس ہونے سے بچانے اور ہر حال میں نفس کے مجاہدہ میں لگائے رکھنے اور ہر صورت میں خدائی رحمت پر بھروسہ کرنے کی طرف توجہ دلانے کے لئے بیان کئے گئے ہیں۔در اصل بعض مومنوں کا یہ مقام کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فداہ نفسی کی حدیث کے مطابق بغیر حساب کے بخشش پانے والے گروہ میں شامل ہو جائیں۔یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قول کے مطابق فرشتے ان کی بعض کمزوریوں اور لغزشوں کے لکھنے سے ہاتھ کھینچ لیں۔اس کے لئے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مندرجہ بالا حوالہ سے ظاہر ہے بعض خاص شرائط کا پایا جانا ضروری ہے اور وہ شرائط یہ ہیں: (1) یہ کہ صرف وہی شخص اس مخصوص خدائی رحمت کا جاذب بن سکتا ہے جو اپنے نفس کے مطالعہ میں مصروف رہے۔یعنی بالفاظ دیگر اسے دل کا تقویٰ حاصل ہو جو گویا اعمال صالحہ کی روح ہے۔جس کے بغیر کوئی شخص اپنے نفس کے جائزہ کی طرف متوجہ نہیں رہ سکتا۔اور دل کا تقویٰ وہ چیز ہے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : ع اک نیکی کی جڑ ہر اگر ہے جڑ رہی سب کچھ رہا ہے (2) وہ بدیوں کو ترک کرنے کی مسلسل کوشش کرتا رہے۔اور خواہ وہ اس کوشش میں کتنا ہی ناکام رہے مگر کسی صورت میں اس کوشش کو نہ چھوڑے اور نفس کا مجاہدہ برابر جاری رکھے۔(3) وہ دعاؤں میں لگا رہے اور ہر حال میں خدائی نصرت و حفاظت کا طالب ہو۔(4) وہ نماز تہجد کا التزام کرے اور راتوں کو اٹھ اٹھ کر خدا تعالیٰ کے سامنے سجدہ میں گڑ گڑانے کی عادت ڈالے۔کیونکہ تہجد وہ چیز ہے جو قرآنی تعلیم کے مطابق نفس کی خواہشوں کو کچلتی اور دعاؤں کی قبولیت کا رستہ کھولتی اور انسان کو اس کے ذاتی مقام محمود تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے۔(5) وہ ثابت قدم اور مستقل مزاج ہو اور دعاؤں اور بدیوں کو ترک کرنے کی کوشش میں تھک کر ہار نہ بیٹھے۔اور خدا کے رستہ میں نامردی نہ دکھائے بلکہ مردانہ وار لڑتا رہے خواہ بظاہر شکست ہی کھائے۔اگر وہ خدا تک نہیں پہنچ سکتا تو کم از کم اس تک پہنچنے کی کوشش میں جان دے دے۔